خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 976 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 976

خطبات طاہر جلد 15 976 خطبہ جمعہ 20 /دسمبر 1996ء غیروں سے عفو سے کام لے ہی نہیں سکتا۔غصے کی حالت میں تو انسان بے اختیار ایسی ایسی باتیں کہہ جاتا ہے کہ بعد میں بعض دفعہ عمر بھر پچھتانا پڑتا ہے کہ کس قدر ظالمانہ بات کر بیٹھا۔تو عفو کا آغا ز ہی اس پہلوانی سے ہوتا ہے جو نفس کے اندر کام کرتی ہے۔انسان اپنے جذبات پر ایسی قوت کے ساتھ قبضہ کرتا ہے کہ بڑے سے بڑا پہلوان بھی وہ عام تاب و طاقت نہیں رکھتا اس کی بدنی طاقت ہے اس کی روحانی طاقت ہے اور آنحضرت ﷺ نے عضو کے آغاز کی کہانی پیش فرما دی۔عفو کے سفر پہ چلو گے تو یہ زاد سفر ساتھ رکھنا۔غصہ پر قابو کرنے کا فن سیکھو اس کی مہارت حاصل کرو پھر اس کام پر نکلو اور یہی وہ سب سے بڑی بلا ء ہے جس نے دنیا میں ہر طرف فساد برپا کر رکھا ہے اور جماعت احمدیہ میں بھی سب سے زیادہ مصیبت اسی غصے پر قابو نہ پانے کی وجہ سے دکھائی دیتی ہے جو گھروں کو برباد کر دیتی ہے، جو معاشرے کو تباہ کر دیتی ہے جو جماعت کے امن کو اٹھا دیتی ہے، ایسے ایسے جرائم پر منتج ہوتی ہے جس کے نتیجے میں پھر عمر بھر ایک خاندان نہیں دوسرا خاندان بھی، ان کے تمام عزیز واقارب بھی تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں، جماعت کے لئے بھی وہ ایک انتہائی تکلیف کا موجب بن جاتے ہیں۔معصوم لوگ جن کا حقیقت میں کوئی قصور بھی نہیں ہوتا اس جہل کے غصے کا شکار ہو جاتے ہیں اور عمر بھر ان کے پیار کرنے والے عذاب میں مبتلا رہتے ہیں۔تو عضو سے پہلے اس حالت پر غور کرو جس کی طرف رسول اللہ اللہ نے بڑی حکمت سے توجہ دلائی کہ پہلوان تو وہ ہے جو اپنے غصے پر اس وقت جبکہ غصہ جوش کی حالت میں ہو، اس وقت قابو پالے اور اس کی باگیں ہاتھ سے چھوڑے نہ اور طنا میں کھینچ کر رکھے مضبوطی کے ساتھ تاکہ یہ جو صبر کا ایک خیمہ سا انسان بنا رکھتا ہے اپنے لئے جس کے اندر وہ محفوظ رہتا ہے اس کی طنا نہیں ٹوٹیں تو صبر کا سارا خیمہ ہی اکھڑ گیا اور انسان پھر کوئی پناہ نہیں پاتا۔تو غصے سے بچنے کے لئے کردار کی مضبوطی اور طاقت، اپنے غصے کی باگیں مضبوطی سے تھامے رکھنا، اپنے صبر کے خیمے کی حفاظت کرنا، کیونکہ صبر کے خیمے کے اندرہی انسان رہے تو وہ بلاؤں سے بچتا ہے ورنہ نہیں بچتا۔یہ وہ مضمون ہے جو حضور اکرم ﷺ نے ہمارے سامنے کھولا اور اپنا آ نحضرت ﷺ کا جو کر دار تھا اس سے پتا چلتا ہے کہ غصے کی وہ حالت پیدا ہی نہیں ہوتی تھی اور یہ وہ خاص طور پر قابلِ توجہ بات ہے کہ وہ انسان جو غصے پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے رفتہ رفتہ ان حالات میں جب دوسروں کو