خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 962
خطبات طاہر جلد 15 962 خطبہ جمعہ 13 دسمبر 1996ء دوسری آیات کے حوالے سے ہم پر کھل جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ خود بھی ایسے تھے، اپنے صحابہ کو بھی ایسا ہی بنادیا یعنی ان لوگوں کا ذکر چل رہا ہے ۔ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ (الفتح : 30) تو قرآن کریم کی جس آیت کی طرف سے بھی آپ داخل ہوں اسی جنت میں داخل ہوتے ہیں جس کے ارض و سماء کائنات پر پھیلے پڑے ہیں۔ اندر وہ ساری چیزیں آپ کو دکھائی دینے لگیں گی اور ہر آیت بنیادی طور پر ایک ہی اصل کے تابع چلتی ہے اور آپس میں آیات کا کوئی تضاد کہیں نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے میں محمد اور مددگار بن جاتی ہیں۔ پس اس لحاظ سے عافِينَ عَنِ النَّاسِ کا مضمون سمجھیں اور پھر جو تربیت کی توفیق آپ کو ملے گی وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ سارے بنی نوع انسان کی تربیت کی طاقت رکھے گی۔ اب یہ بات بھی بہت اہم ہے سمجھنے والی کیوں کہ ہر انسان اگر اپنے مزاج کے مطابق تربیت کرے یا اپنے قومی مزاج کے حوالے سے تربیت کرے تو اپنی قوم کا مزاج کسی حد تک درست کر سکتا ہے مگر دوسری قوموں کا مزاج درست نہیں کر سکتا اس کے لئے عالمی مزاج کی ضرورت ہے اور عالمی رسول کے تابع ہو کر عالمی مزاج پیدا کئے بغیر آپ بنی نوع انسان کی بحیثیت بنی نوع انسان تربیت کرنے کے مستحق نہیں ہو سکتے بلکہ آپ کی تربیت نسبتی رہے گی۔ ایک قوم کی تربیت کر رہے ہیں دوسری کی بگاڑ رہے ہیں ۔ ایک قوم کا حق ادا کر رہے ہیں دوسرے کا چھین رہے ہیں۔ تو عالمی حوالہ ضروری ہے تربیت کے لئے اور جب عالمی حوالے کی بات کریں گے تو ایک ہی حوالہ ہے یعنی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ جنہوں نے اللہ کے بعد اس دنیا میں اللہ کی ان صفات حسنہ کو اپنا لیا کہ گویا ایک خدا نما وجود بن گئے ۔ خدا تو نہیں تھے مگر آپ کی صفات میں خداد دکھائی دینے لگا اس لئے آپ کی اطاعت لازم ہے۔ ورنہ براہ راست اللہ کی اطاعت کا حکم ہوتا تو بظاہر بہت اچھی بات ہوتی کہ بس اللہ کی اطاعت کرو، کیا پتا اللہ کی اطاعت کیسے ہوتی ہے، کیسے کریں گے؟ ہر شخص اپنے مزاج کے مطابق اللہ کو جو سمجھتا ہے وہی کرتا پھرتا ہے تو قرآن کریم نے یہ احتیاط برتی اور بڑی سختی کے ساتھ اس پر کار بندر ہا اور ہمیشہ کے لئے کار بند ہے، اللہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کو جوڑا ہے جب بھی اطاعت کی بات ہوئی ہے أَطِيعُوا اللهَ وَالرَّسُول اور یہ بتانے کے لئے کہ تمہیں محمد رسول اللہ ﷺ کو سمجھے بغیر، آپ کی صفات پر غور کئے بغیر ، آپ کے حوالے کے بغیر اللہ کی اطاعت