خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 961
خطبات طاہر جلد 15 961 خطبہ جمعہ 13 /دسمبر 1996ء کے حالات میں ڈوب کر ان کی برائیاں تلاش نہ کریں اور وہ برائیاں جواز خود ابھر کر آپ کے سامنے آتی ہیں جہاں تک ممکن ہے ان سے عفو کا سلوک کریں اور یہ جو كَاظِمِينَ الْغَيْظَ میں میں نے کہا تھا اگر وہ اصلاح ممکن ہو تو پھر ایسا کریں وہ عفو کے حوالے سے۔قرآن کریم میں دوسری جگہ بالکل واضح طور پر بیان فرما دیا ہے۔فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری:41) عفو کرتے ہیں مگر بغیر کسی شرط کے نہیں کرتے۔فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ وہ جس نے عفواس طرح کیا کہ اس کے نتیجے میں لازماً اصلاح ہوتی ہے اس کا اجر اللہ کے پاس ہے۔جو عفو اس طرح کرے کہ اصلاح کی بجائے بدی کا حوصلہ بلند ہو جائے اور جرائم زیادہ پھیل جائیں وہ عضو ہرگز خدا تعالیٰ کو پسندیدہ نہیں۔تو كَاظِمِينَ الْغَيْظَ اور عافِينَ عَنِ النَّاس کا یہ مضمون ہے جو یہاں بیان ہوا ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اسوہ سے سیکھو۔آپ کا عفو غالب تھا مگر اس شرط کے ساتھ کہ اگر اصلاح ہوتی تھی تو عضو فرماتے تھے ، اگر اصلاح نہیں ہوتی تھی تو عفونہیں فرماتے تھے اور اگر اس پر بنیاد ہے كَاظِمِينَ الْغَيْظَ ہونے کی تو لازماً یہ مضمون وہاں بھی پھیل جائے گا، وہاں تک بھی جا پہنچے گا۔غصہ ضبط کیا جاتا ہے جہاں تک ممکن ہے کہ غصہ ضبط کرنے سے اصلاح ہو لازم ہے کہ غصہ ضبط کرو اور اگر غصہ ضبط کرنے سے جرم کی حوصلہ افزائی شروع ہو جائے اور بغاوت پھیل جائے تو ایسا غصہ ضبط کرنا تو حد سے بڑی حماقت ہے۔پس رحمت کے باوجود غصہ ضبط کرنا لیکن رحمت کے تقاضوں کے خلاف غصہ ضبط نہیں کرنا ، یہ ہے وہ رحمت کا مضمون جو بڑی وضاحت سے قرآن کریم نے پیش فرمایا اور ایک دوسری آیت کو بھی حل کر دیتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ فرمایا وہ دشمنوں پر آشد آئے اس لئے نہیں ہیں کہ وہ سخت گیر لوگ ہیں، بدتمیز اور بد مزاج لوگ ہیں۔باوجود رحیم ہونے کے پھر بھی أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ ہیں اور اس سے بہتر ترجمہ یہ ہوگا کہ رحمت کی وجہ سے أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ ہیں اور یہی وہ ترجمہ ہے جو اس آیت کے حوالے سے میں کر رہا ہوں یعنی ان کی رحمت کا تقاضا ہے کہ جہاں سختی ہو بختی کی ضرورت ہو اور سختی کے بغیر اصلاح ہو نہ سکتی ہو اور سختی نہ کی جائے تو نہ اس شخص پر رحم ہے جو بغیر اصلاح کے آزادانہ دندناتا پھرے گا، نہ اس دنیا پر رحم ہے جو اس سے نقصان اٹھائے گی۔تو كَاظِمِينَ الْغَيْظ اور عافِينَ عَنِ النَّاسِ کا یہ ضمون ہے جو