خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 949
خطبات طاہر جلد 15 949 خطبہ جمعہ مورخہ 6 دسمبر 1996ء بات بیان فرما دی جس کی طرف توجہ دلا کے اب چونکہ وقت ختم ہو رہا ہے میں اس خطبہ کو ختم کروں گا کہ عفو ہے کیا ، وہ عفو جس کے نتیجہ میں اولاد بد تمیز ہوتی ہے اور کھل کھیلتی ہے، شرارتیں کرتی چلی جاتی ہے اس کے نتیجہ میں اس اولاد کے دل میں ان ماں باپ کی عزت کبھی نہیں پیدا ہوئی اس لئے عفو پہچانے کا کتنا عمدہ ذریعہ بیان فرما دیا۔فرمایا عفو ہے ہی وہی جس کے ذریعے تمہاری عزت بڑھے۔جہاں تم نے عفو کے نام پر خطاؤں سے نظر پھیری ہے اور خطائیں شوخ ہوگئی ہیں اور بچے بدتمیز ہو گئے ہیں تم بے وقوف ہو جو سمجھتے ہو کہ عفو سے کام لیا جارہا ہے۔تم وہ حد پھلانگ چکے ہو جہاں عفو کی جو عمل داری تھی وہ ختم ہو گئی اس حد سے باہر آگئے ہو۔تو ایک ہی چھوٹے سے پیارے فقرے میں آنحضرت ﷺ نے کتنا عظیم الشان نکتہ بیان فرما دیا عفو کی پہچان کا۔فرمایا اس وقت تک تمہارا عفو ہے جب تک اس کے نتیجہ میں الله تمہاری عزت بڑھتی ہے جہاں تمہاری عزت ختم ہونی شروع ہو جائے وہاں عفو تم ہے۔پس وہ مائیں جو اپنے بچوں کو خاص طور پر جب وہ دوسروں کے گھروں میں جائیں تو ہر قسم کی کھلی چھٹی دے دیتی ہیں، دوڑے پھرتے ہیں آواز میں نکالتے ، چھینیں مارتے ، بدتمیزی کا اظہار اور ان کے ہنسنے کی طرز میں ہی بد تمیزی پائی جاتی ہے اور جو میز بان ہے اس کو تکلیف پہنچ رہی ہے اس کے بچے حیران ہو جاتے ہیں یہ کیا ہو رہا ہے اور ماں بیٹھی ہے بے حس، پر واہ ہی کوئی نہیں اور وہ پھر ان کی قیمتی چیزیں جو انہوں نے سجاوٹ کی چیزیں رکھیں ، اٹھا کے وہ پھینکیں ، کوئی شیشہ توڑ دیا بہت قیمتی، کوئی اور چیز کسی کو نقصان پہنچا دیا، اور ماں ہے ”بڑا شرارتی ہے ایسانہ کر یا کر“ اور ایسا بچہ ضرور ماں سے بدتمیز ہوتا ہے یہ میرا تجربہ ہے ایک دفعہ بھی میں نے اس بات کو غلط نہیں دیکھا۔ایسی مائیں جو ڈھیل دیتی ہیں ان کی عزت گر جاتی ہے اور ذلیل ہو جاتی ہیں وہ ، اور وہ اولا د پھر ان پر بھی تحکم کر نے لگتی ہے۔ہے۔مضمون ہے جو آنحضرت مہ نے بیان فرما دیا کہ یاد رکھو عفو سے عزت کم نہیں ہوا کرتی بلکہ خدا ہمیشہ ایسے شخص کی عزت بڑھاتا ہے۔جہاں کم ہوتی دیکھو گے وہاں تم عفو کی حدیں پھلانگ گئے اس لئے لازم ہے تم پر کہ تم اپنی نگرانی کرو اور عفو کی حد سے باہر نہ نکلو۔عن مظلمة لفظ تھا جو میں بھول گیا تھا بیان کرنا۔مظلمة سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایسی باتیں جن سے تم پر کچھ ظلم ہوا ہے تمہارا نقصان ضرور ہوا ہے اور تکلیف کا موجب بنا ہے پھر ، عام روز مرہ جو باتیں ہیں صلى الله