خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 940 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 940

خطبات طاہر جلد 15 940 خطبہ جمعہ مورخہ 6 دسمبر 1996ء ایسا جھوٹا اور بے معنی فخر ہے جس سے ساری زندگی برباد ہو جاتی ہے۔آپس کے تعلقات میں ایسا زہر گھل جاتا ہے کہ ایسے ماحول میں زندگی بسر کرنا ایک جہنم کے ماحول میں زندگی بسر کرنا ہے۔پس مرد ہو یا عورت ہو اس کو اپنی نگرانی کرنی چاہئے اور عفو میں پناہ لینی چاہئے اور جو عفو میں پناہ لے وہ بداخلاق ہو ہی نہیں سکتا۔عفو آغاز ہے حسن خلق کا۔دیکھی ہیں، نظر پھیر لی ، خیال کیا جیسے کچھ بھی نہیں ہوا مگر اس کے بعد پھر فرمایا۔وَتَصْفَحُوا اب تَصْفَحُوا کا مطلب ہے صاف کر کے گویا ہے ہی نہیں ایسا مٹا ڈالو گویا نہیں ہے۔عفت الديار محلها و مقامها (لبيد بن ربيعة العامري ) شہر اس طرح مٹ گئے کہ نہ ان کا عارضی ٹھکانے کا نشان رہا نہ ان کے مستقل ٹھکانے کا نشان رہا اور عرب شعراء نے عفو لفظ کو انہی معنوں میں بڑے اچھے اچھے شعروں میں استعمال کیا ہے یعنی کلیۂ مٹ جانا لیکن عفو کا وہ مضمون جو یہاں اطلاق پاتا ہے وہ اور ہے اور وہ عرب لغت کھول کر بیان کرتی ہے۔صفح سے جو مراد یہاں اطلاق پا رہی ہے وہ یہ ہے کہ تم ان کو تھوڑا سا ڈانٹو اور کچھ خفگی کا اظہار کرو تو کبھی کبھی جب یہ دیکھو کہ تمہارے عفو نے کام نہیں کیا تو صَفْحَا جَمِيلًا صح سے کام لو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے کچھ نا راضگی کا اظہار کرو اور صفح کا لفظ جو ہے وہ بہت ہی ایک اعلیٰ درجہ کا انتخاب ہے اس موقع کے لئے کیونکہ صفح اس بات کو بھی کہتے ہیں کہ ایک انسان کسی سے کچھ دیر کے لئے ناراضگی کی وجہ سے منہ پھیر لے یعنی چھپانے کے لئے نہیں بلکہ اس اظہار کے لئے کہ تم نے ایسی حرکت کی ہے کہ اب میں ویسا پیار کا تعلق تم سے نہیں رکھ سکتا۔یہ نظریں جو ہیں یہ نظر پھیرنا اور ہے اور عفو کی نظریں پھیرنا بالکل اور ہے۔پس چونکہ معانی ملتے ہیں اس لئے ترجمہ کرنے والے زیادہ بار یکی میں اگر نہ جائیں تو ایک ہی جیسا ترجمہ کر دیتے ہیں جو درست نہیں ہے۔عفو میں نظر انداز کرنا، درگزر کے ان معنوں میں کہ گویا کوئی واقعہ نہیں ہوا، آپ دیکھ - رہے ہیں اپنے حوصلے کی وجہ سے اسے برداشت کر رہے ہیں۔صفحا کا مطلب ہے بعض دفعہ