خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 938 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 938

خطبات طاہر جلد 15 938 خطبہ جمعہ مورخہ 6 دسمبر 1996ء لو - وَاِنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - (التغابن : 15) اب تین طریق ہیں نصیحت کے اپنے گھر میں بھی وہی استعمال کرو اگر تم ایسا گرو گے تو اللہ تمہاری غلطیوں سے بھی مغفرت کا سلوک فرمائے گا اور کوئی بداثر ان کا تمہاری اولاد پر نہیں پڑے دے گا لیکن لازم ہے تم پر کہ اس طریق کو اختیار کرو جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا ہمیشہ کا طریق تھا بعینہ یہی طریق تھا۔وَإِنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا اگر تم عفو سے کام لو اور صبح سے کام لو اور مغفرت سے کام لو۔یہ تین کیا چیزیں ہیں۔بظاہر تو عفو اور صبح کو ایک ہی معنوں میں سمجھا جاتا ہے یعنی درگزر اور ایک ہی اس کا ترجمہ بھی ملتا ہے مگر ان میں فرق ہے اور اصل معنی عفو کا ہے کہ اس طرح نظر انداز کر دینا ایک چیز کو گویا ہے ہی نہیں ، گویا موجود ہی نہیں تھی۔یعنی ابتداء میں بچوں کی غلطیاں، بیوی کی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن تم یوں سلوک کرو گویا تم نے دیکھی ہی نہیں تمہیں پتا ہی نہیں لگا اور ان کو کچھ سہولت اور آسانی دوورنہ ہر وقت جو مرد گھر پر سوار رہے گا اس سے تو زندگیاں برباد ہو جائیں گی ، عذاب بن جائیں گی۔ہر وقت دیکھنا ، ہر وقت میں میخ نکالنا، ہر وقت نقائص ڈھونڈ نا یا نہ بھی ڈھونڈے تو نظر آ ہی جاتے ہیں۔تو فرمایا جو لوگ اکٹھے رہتے ہیں ان پر لازم ہے کہ عفو سے کام لیں اکثر ایسا وقت گزاریں کہ گویا ان کو پتا ہی نہیں کیا ہو رہا ہے لیکن ہر چیز میں نہیں۔وہ بدخلقیاں ، وہ معمولی معمولی باتیں جو آغاز میں ہلکے طور پر ظاہر ہوا کرتی ہیں یعنی ابھی جرم نہیں بنتیں اور بعض خطائیں ہیں برتن گر کے ٹوٹتا ہے ٹھوکر لگ جاتی ہے کسی چیز پہ کسی چیز کو نقصان پہنچ جاتا ہے کھانا دیر میں پکا ، روٹی جل گئی ، یہ وہ ساری چیزیں ہیں جو گھر کے روزمرہ کے معاملات ہیں جن میں عفو لازم ہے انسان اس طرح دیکھے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ، کچھ دیکھا ہی نہیں۔اس طرح سنے جیسے کچھ سنا ہی نہیں یہ عفو کا معنی ہے۔ایک شاعر کہتا ہے نگاہوں سے متعلق کہ وہ دیکھتے مجھے یوں ہیں کہ دیکھتے ہی نہیں اس طرح عفو کی نظر ڈالتے ہیں گویا نہیں دیکھ رہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دیکھنے کا یہی انداز تھا اور حضرت مصلح موعودؓ کا ہمیں پتا ہے بچپن سے یہی دیکھا کہ لگتا تھا کہ کچھ بھی نہیں دیکھ رہے اور دیکھ سب کچھ لیتے تھے تو