خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 934
خطبات طاہر جلد 15 934 خطبہ جمعہ مورخہ 6 دسمبر 1996ء ضرورت ہے اور وہ رویا یہ تھی کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک کتاب کا درس دے رہا ہوں اور آخری حصے پہ پہنچا ہوں اور وہاں پہنچ کر جو بات میں بیان کرتا ہوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بار بار بیان کر چکے ہیں۔میں جماعت کو اس درس میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جب تک تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مزاج نہیں سمجھو گے آپ کی تحریرات کا حقیقی مفہوم نہیں پاسکتے اور یہ تکرار نہیں بلکہ اصرار ہے اور اس پر رؤیا ختم ہوگئی۔باقی باتیں میں نے آنکھ کھلنے کے بعد سوچیں تو میں حیران رہ گیا کہ جو بات میں سوچ رہا تھا کہ تکرار ہوگی اگر دوبارہ باتیں کروں گا، اسی وہم کا جواب مجھے رویا میں بتایا گیا کہ بعض باتیں بار بار اس لئے ضروری ہیں کہ ان پر اصرار کئے بغیر لوگ سمجھتے نہیں۔پس تکرار وہ چیز ہے جو سمجھ میں آ چکی ہو اور پھر بے وجہ انسان اسے دہرائے اور اصرار وہ ہے کہ ایک بات بار بار کہی جائے اور کوئی نہ سمجھے اور پھر سمجھایا جائے اور پھر نہ سمجھے اور پھر سمجھایا جائے یہاں تک کہ انسان بلاغ کا حق ادا کر دے۔اس رؤیا کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ لازماً میں اس کی طرف توجہ دوں گا۔اور یہ آیت کریمہ جو آج کے لئے منتخب ہوئی ہے یہ معین طور پر تو میں نے نہیں کی تھی مگر پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو جب میں نے بتایا کہ اس مضمون پر آیت چاہئے اللہ تعالیٰ کا تصرف ہے کہ انہوں نے وہ آیت چینی جو بعینہ اس مضمون پر صادق آ رہی ہے اور سب سے پہلی آیت بلاغ کے مضمون کو کھول رہی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ پس اگر تم پھر جاؤ گے۔فَإِنَّمَا عَلَى رَسُوْلِنَا الْبَلْغُ الْمُبِينُ تو یاد رکھو ہمارے رسول پر تو اس کے سوا کچھ فرض نہیں ہے کہ خوب کھول کھول کر بات کو بیان کر دے تو البَاغُ الْمُبِينُ کا وہی مفہوم ہے جو رویا میں اصرار کا مفہوم مجھے سمجھ آیا تھا کہ جب تک بات کھل نہ جائے انسان وہ بات کہتا چلا جائے اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا بعینہ یہ طریق تھا جب تک ایک مضمون کو خوب اچھی طرح سمجھا نہ لیتے یہاں تک کہ بسا اوقات دوبارہ پوچھتے بھی تھے کہ بتاؤ تمہیں کیا سمجھ آئی ہے اس وقت تک اس بات کو دہراتے تھے اور بہت سی