خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 927 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 927

خطبات طاہر جلد 15 927 خطبہ جمعہ 29 /نومبر 1996ء بیرونی واعظوں کا اس پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔۔۔“ وہی بات ہے جو اللہ کا احسان ہے کہ میں آپ کے سامنے پہلے بھی پیش کرتا رہا ہوں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں سن کر تو اس کا لطف ہی اور ہے کیسے دلکش، کیسے حسین ، کیسے گہرے نیچے انداز سے آپ نے بیان فرمایا تب تک بیرونی واعظوں کا اس پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا جب تک اس کے اندر سے ایک واعظ نہ پیدا ہو۔۔۔مگر وہ کام خدا کا ہے ہمارا کام نہیں۔ہمارا کام صرف بات کا پہنچا دینا ہے تصرف خدا کا کام ہے۔۔۔66 كَذَلِكَ نُصَرِفُ الْآیتِ دیکھیں اس قرآن کے گہرے فلسفے کے ساتھ کس طرح آپ کا کلام وابستہ ہے ساتھ ساتھ چل رہا ہے کوئی ایک بات بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام صلى الله ایسی نہیں فرماتے جس کی بنیاد حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی نصائح اور نیک عمل میں نہ ہو اور قرآن کی آیات کے تابع اس کے سائے میں وہ بات نہ آگے بڑھتی ہو ہر بات کی کوئی نہ کوئی بنیاد آپ کو لازما قرآن میں ملے گی۔فرماتے ہیں:۔۔۔تصرف خدا کا کام ہے ہم اپنی طرف سے بات کو پہنچا دینا چاہتے ہیں ایسا نہ ہو کہ ہم پوچھے جاویں (اور بات پہنچانے میں کتنی ذمہ داری ہے اور کتنا خدا کا خوف ہے ) کہ کیوں اچھی طرح سے نہیں بتایا اسی واسطے ہم نے زبانی بھی لوگوں کو سنایا ہے تحریری بھی اس کام کو پورا کر دیا ہے۔“ الله (ملفوظات جلد 5 صفحه : 590) سبحان الله و بحمده سبحان الله العظیم واقعی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے سیکھنے اور سکھانے کے خوب رنگ سیکھے اور جو حق تھا وہ خوب پورا کر دیا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” ہماری جماعت میں شہ زور اور پہلوانوں کی طاقت رکھنے والے مطلوب نہیں۔۔۔“ اگر یہ وہم ہو کہ بڑے بڑے کھلاڑی، بڑے بڑے باکسنگ کرنے والے، بڑے بڑے