خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 926
خطبات طاہر جلد 15 926 خطبہ جمعہ 29 نومبر 1996ء بات خوب کھول کر آپ تک پہنچائی۔وہ باتیں جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے انکسار کی وجہ سے آپ کی فطرت میں مخفی حسن کے طور پر تھیں قرآن نے اسے خوب کھول دیا، تصریف آیات کی، ایک پہلو بھی ایسا نہیں رکھا جو دنیا پر روشن نہ کر دیا گیا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ” جب تک خدا کسی کے دل کے دروازے نہ کھولے کوئی کچھ نہیں کر سکتا، دلوں کے دروازے کھولنا خدا تعالیٰ ہی کا کام ہے۔۔۔جب انسان کے اچھے دن آتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو انسان کی دوستی اور بہتری منظور ہوتی ہے تو خدا انسان کے دل میں ہی ایک واعظ کھڑا کر دیتا ہے۔۔۔“ کیسی گہری عرفان کی بات ہے۔جب تک دل میں خدا واعظ نہ کھڑا کرے اس وقت تک بیرونی بات انسان پر کچھ بھی اثر نہیں کر سکتی۔اثر کرتی ہے تو نفس کی آواز بن کر اثر کرتی ہے۔یہ ایک ایسا فطرت کا گہرا راز ہے جسے لوگ کم سمجھتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ باہر کی بات نے ہم پر اثر کیا، باہر کی بات جب تک نفس کے اندر سے ایک ہم نوا نہ پیدا کر دے اس آواز کی تائید میں دل نہ بول اٹھے اس وقت تک بیرونی آواز کوئی بھی اثر نہیں کر سکتی جیسا کہ غالب نے کہا ہے کہ: دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے (دیوان غالب : 242) اس مقام تک پہنچانا انبیاء کا کام ہے اور انبیاء کے غلاموں کا کام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھو کیسے راز کی بات بیان فرمائی جب تک تمہارے دل میں کوئی بات ایک واعظ نہ اٹھا دے، تمہارے دل کے اندر سے ایک نصیحت کرنے والا نہ اٹھ کھڑا ہو اس وقت تک تمہیں بیرونی بات کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اور کیسے پیارے انداز میں بیان فرمایا ” جب انسان کے اچھے دن آتے ہیں“ دل عش عش کر اٹھتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں کو پڑھتے ہوئے۔کیسا پیارا فقرہ ہے ” جب انسان کے اچھے دن آتے ہیں۔تو کیوں نہ اپنے اچھے دنوں کے لئے دعا کرو کیوں نہ خدا سے التجا کرو کہ ہمارے دن پھیر دے اور ہمارا دل بے اختیار کہہ اٹھے کہ ہمارے اچھے دن آ گئے بہار کا سماں پیدا ہو تو پھر کونپلیں ضرور پھوٹیں گی پھر اندر کا واعظ ضرور بیدار ہو گا۔فرماتے ہیں:۔۔۔اور جب تک خود انسان کے اندر ہی واعظ پیدا نہ ہو تب تک وو