خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 925
خطبات طاہر جلد 15 925 خطبہ جمعہ 29 /نومبر 1996ء زیادہ لے گا، اس کے بدلے تجھے فائدہ پہنچے گا۔پس آنحضرت ﷺ کے اخلاق کا اگر کوئی خلاصہ ہوسکتا ہے تو یہ ہے کہ آپ کا دینے کا ہاتھ ہمیشہ اوپر رہا ہے۔کبھی اس نیت سے ایک ذرہ بھی آپ نے کسی پر احسان نہیں فرمایا کہ یہ بعد میں میرے کام آجائے گا، ہو سکتا ہے کسی وقت اس کی ضرورت پڑ جائے یا ہوسکتا ہے یہ امیر ہو جائے تو میں اس کی دولت سے فائدہ اٹھاؤں، یہ سب جاہلانہ باتیں ہیں۔قرآن کریم نے جو اخلاق کی تعریف فرمائی ہے اس میں ایک یہ نکتہ، اور بھی بہت سے ہیں وہ اخلاق فاضلہ کو جو حقیقی اخلاق ہیں جو اللہ سے وابستہ ہیں جو صرف ایمان والوں کو نصیب ہوتے ہیں ان کو دنیا کے اخلاق سے اس طرح ممتاز کر دیتے ہیں کہ دونوں مختلف وجود بن جاتے ہیں ان کی نوع بدل جاتی ہے دنیا کے اخلاق ان اخلاق الله حسنہ کے مقابل پر جو قرآن سکھاتا ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کو عطا ہوئے ، کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے گویا وہ اخلاق ہی نہیں ہیں۔وہی مثال ان پر آتی ہے کہ : رات مجلس میں تیرے حسن کے شعلے کے حضور شمع کے منہ پہ جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا (خواجہ میر درد) صل الله یہ اگر حقیقت میں شعر کسی ذات پر صادق آتا ہے تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر صادق آتا ہے۔وہ اخلاق حسنہ جو آپ سے وجود میں آئے ، آپ سے ظاہر ہوئے۔خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ ان اخلاق کو دیکھ کر دنیا کے اخلاق کے چہرے کو دیکھیں تو کہیں نو ر دکھائی نہیں دے گا۔تمام نور کا مجمع ، تمام نور جس پر مرتکز ہو گیا جو منبع بھی بنا جس سے نور پھوٹا اور پھر اسی میں نور مرکوز ہو گیا وہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا حسن ہے پس اس طرف توجہ کریں۔ایک ہی وجود ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم :5) اے محمد تیرا قدم اخلاق کی چوٹی پر واقع ہے۔تو منزل بہ منزل اخلاق میں نہیں بڑھ رہا اخلاق تیرے قدموں کے نیچے ہے۔یہ ویسا ہی محاورہ ہے جیسے جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔اگر تم نے اخلاق سیکھنے ہیں تو محمد رسول اللہ اللہ کے قدم چومو! کیونکہ وہیں سے تمہیں اخلاق ملیں گے۔اخلاق کی ہر بلند سے بلند چوٹی آپ نے سر کر لی ہے اور اس چوٹی پر فائز ہیں۔پس یہ وہ اخلاق ہیں جن کی تعلیم آنحضرت ﷺ نے زبان خاموش سے بھی دی اور قرآن نے اس زبان خاموش کی صل الله