خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 924
خطبات طاہر جلد 15 924 خطبہ جمعہ 29 /نومبر 1996ء کوئی رد عمل نہیں ہوتا اور پھر تبلیغ کام آتی ہے، پھر منہ کے الفاظ میں بھی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔پس آج ہم نے اس دور میں جس دور میں احمدیت داخل ہوئی ہے سب سے زیادہ اخلاق حسنہ کی حفاظت کرنی ہے سب سے زیادہ اخلاق حسنہ کو اپنا کر اس طاقتور ہتھیار کے ذریعہ دنیا پر غالب آنا ہے اور آپ یقین جانیں کہ دنیا کی بڑی سے بڑی قو میں بھی اس ہتھیار کا دفاع نہیں جانتیں کیونکہ وہ اس ہتھیار سے خالی ہیں۔ان کو علم ہی نہیں کہ اخلاق حسنہ ہوتے کیا ہیں۔ظاہری خلق کے لحاظ سے آپ کو بہت اچھے اچھے لوگ ملیں گے مگر ظاہری اخلاق جو Civilization کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اس کے اندر کوئی بقا نہیں۔جب اس کے مفادات سے دوسرے کے مفادات ٹکراتے ہیں تو وہ خلق محض ایک فلم سی دکھائی دیتا ہے، جھلی سی جو اس کے وجود پر تھی اور فوڑا پھٹ جاتی ہے۔بڑی بڑی مہذب قومیں ہیں جن کے مفادات جب کسی غریب قوم سے بھی ٹکرائیں تو ساری اخلاقیات کی جھلی پھٹ کر پارہ پارہ ہو جاتی ہے اندر سے ایک وحشی درندہ نکلتا ہے اس کے ناخن جو پہلے اندر چھپے ہوئے تھے انگلیوں کے اندر دبے ہوئے تھے وہ باہر نکل آتے ہیں، اس بھیڑیے کی طرح جو ایک کہانی میں ایک بچے کی نانی بن کر بیٹھا ہوا تھا اور جب وہ اس کے قابو آیا تو پھر اس کے ناخن باہر نکلے پھر اس کے دانت باہر نکلے اور اس کی اصلیت تب ظاہر ہوئی۔پس جن اخلاق حسنہ سے آپ متاثر ہیں جو خدا کے بغیر ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر ایمان کے بغیر بھی دنیا کو ہلکے پھلکے سے اخلاق میسر ضرور آتے ہیں لیکن جب بھی ان کے طبعی نفسی تقاضوں سے ان اخلاق کا ٹکراؤ ہو تو ان کے اخلاق پارہ پارہ ہو کر بکھر جاتے ہیں غریب قومیں جن کے اندر خون کا قطرہ بھی باقی نہیں ان کے خون کو بھی چوسنے کے لئے وہ اسی طرح دانت تیز کرتے ہیں جیسے امیر قوموں سے دولتیں لوٹنے کے لئے تیز کرتے ہیں۔اب افریقہ کا کیا حال ہے کئی جگہ افریقہ کے ممالک کا یہ حال ہو چکا ہے کہ جیسے انیمیا کی آخری صورت ہو اس کے بعد ان کو خودخون کے ٹیکے دے کر ان کو زندہ کرنا پڑتا ہے تا کہ یہ زندہ ہوں تو پھر ہم دوبارہ اس کمائی سے جو یہ خود کرے اپنا خون واپس لیں اور اس سے بھی زیادہ سود در سود واپس لیں۔یہ اخلاق حسنہ ہیں؟۔یہ ہرگز اخلاق حسنہ نہیں۔قرآن کریم کی تعریف کے مطابق آنحضرت ﷺ کو خدا نے جو تعلیم بخشی جس خلق کا آپ نمونہ بنے اس کے متعلق تفصیلی گفتگو کا تو وقت نہیں مگر یا درکھیں اس کا مرکزی نقطہ یہ ہے وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ ( مدثر: 7) کبھی کسی پہ احسان نہ کر اس نیت کے ساتھ کہ تو اس سے کچھ