خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 920
خطبات طاہر جلد 15 920 خطبہ جمعہ 29 /نومبر 1996ء اس کے ہر پہلو کو اس پر روشن کر دیں۔اِتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ جو کچھ تیرے رب کی طرف سے تجھ پر نازل کیا جاتا ہے اس کی پیروی کر لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ اور جو شرک کرنے والے ہیں وہ خدا کے سوا اپنی امنگوں یا دنیا کی حکومتوں اور طاقتوں کو اپنا خدا بنا بیٹھے ہیں، ان سے اعراض کر ان سے منہ پھیر لے۔اسی مضمون کے تعلق میں آنحضرت ﷺ نے آخری خطبہ میں جو حجۃ الوداع کا خطبہ کہلاتا ہے، بیان کیا جاتا ہے کہ ایک لاکھ کا مجمع یا شاید اس سے بھی زیادہ تھے جو اس آخری خطبہ میں آنحضور ﷺ کے سامنے حاضر تھے یہ آخری حج تھا جو آپ نے ادا فرمایا یہ آخری خطبہ تھا جو آپ نے اپنے عشاق کو دیکھتے ہوئے ان کے سامنے بیان کیا اور اللہ کے حضور در اصل ایک حجت تھی ، ان پر حجت تھی جو پوری کر رہے تھے اور خدا کے حضور یہ عرض کر رہے تھے اے خدا یہ سب گواہ ہیں جو کچھ تو نے مجھے کہا تھا میں نے سب کچھ بیان کر دیا ایک ذرہ بھی کمی نہیں آنے دی۔فرمایا، اے لوگو! عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے۔وہ تم سے پوچھے گا کہ تم نے کیسے عمل کئے دیکھو میرے بعد دوبارہ کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے پھرو اور آگاہ رہو تم میں سے جو یہاں موجود ہے ان لوگوں کو پیغام پہنچادیں جو کہ صلى الله موجود نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جس کو وہ پیغام پہنچایا جائے وہ سننے والے سے زیادہ سمجھ دار ہو۔پھر آ نے فرمایا کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا ہے، کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا ہے۔کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا ہے۔صحابہ کہتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا ہے۔پھر آپ نے فرمایا اے میرے اللہ گواہ رہ کہ جس کام کی خاطر تو نے مجھے بھیجا تھا میں نے اس کا تمام حق ادا کر دیا ہے۔یہ ایک لاکھ کا مجمع گواہ ہے، یہ بلند آواز سے اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ جو کام تو نے میرے سپرد کئے تھے وہ تمام تر پورے کر دیئے اور یہ پیغام پہنچا دیا۔یہ آخری خطبہ تھا حجتہ الوداع کا جس میں شریعت کی تکمیل کا یہ منظر حیرت انگیز ہے یعنی شریعت صرف مکمل نہیں ہوئی بلکہ وہ کامل رسول ﷺ جس نے شریعت کو بنی نوع انسان تک پہنچانا تھا اس نے ایک لاکھ کے مجمع میں ان سے یہ گواہی لی اور خدا کے حضور اس گواہی کو پیش کیا کہ اے خدا میں اپنا حق ادا کر چکا ہوں اور یہی دراصل اس بات کی علامت تھی کہ آپ رخصت ہونے والے ہیں،