خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 916 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 916

خطبات طاہر جلد 15 916 خطبہ جمعہ 29 نومبر 1996ء پس اس پہلو سے آج بھی جو خطبہ براہ راست یہاں سے نشر کیا جا رہا ہے یہ کل عالم میں احمدیت کی یک جہتی اور ایک جان ہونے کا ایک عظیم ثبوت ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے سوا یہ ممکن نہیں تھا۔پس ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اور بھی ہماری عالمی یک جہتی کو بڑھائے ، ہم ایک مزاج بن کر ابھریں اور وہ جو قومی اور نسلی اختلافات ہیں ان کو مٹانے کے لئے تمام دنیا سے ایک مزاج کے لوگوں کا ایک قوم کا ایسا ابھر نا لا زم ہے جو ایک مرکزی دماغ کے ساتھ وابستہ ہو، ایک مرکزی دل کے ساتھ دھڑکتی ہو اور اس کے زیر و بم میں ان کی ساری زندگی ہو۔یہ معجزہ ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا معجزہ ہے جو آخرین کے لئے مقدر تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت ہمیں عطا فرمائی۔اس دور کے جو تقاضے ہیں ان کے تعلق میں یہ آیت کریمہ میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی۔سب سے اہم تقاضا میرے نزدیک اس وقت اخلاق حسنہ کا تقاضا ہے، نہایت ہی اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی دنیا کو ضرورت ہے اور اخلاق حسنہ دنیا سے مٹتے جا رہے ہیں، محدود ہوتے چلے جا رہے ہیں۔وہ تو میں جو کبھی اپنے اخلاق کی وجہ سے سر اٹھا کر چلا کرتی تھیں، جن کے دعوے تھے کہ ہماری گلیوں میں چوری کوئی نہیں ہماری گلیوں میں بے ہودہ حرکتیں کوئی نہیں انگلستان کا بھی ایک زمانے میں برحق دعوئی اور یہی دعویٰ تھا مجھے یاد ہے جب میں طالب علم تھا تو ایک دفعہ Hampstead-Heath کے ایک کنارے سے چونکہ ہمارا وہاں ایک پروگرام تھا جس میں دیر ہو گئی اور Tube بند ہو چکی تھی اور ٹیکسی کی توفیق نہیں تھی اس وقت میں پیدل لندن مسجد پہنچا ہوں اور رات کے وقت کسی قسم کا کوئی خوف نہیں تھا، خاموش گلیاں، پر سکون گلیاں اور صبح نماز کے وقت میں وہاں پہنچا اور صبح کی نماز میں شامل ہو گیا آرام کے ساتھ۔یہ وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ رستے میں کوئی چور اچکا آئے گا اور پکڑے گا اور پولیس میں بھی ایسی شرافت اور مستعدی تھی کہ بے وجہ دکھائی نہیں دیتی تھی مگر جہاں ضرورت پڑے وہاں پولیس نکل آتی تھی کہیں سے۔اب وہ حالات بالکل یکسر تبدیل ہو چکے ہیں اب تو گلی گلی کا موڈ خطرناک ہو گیا ہے اب تو ان کے جو دانشور ہیں وہ شور مچارہے ہیں کہ ہمیں کیا ہو گیا ہے ہر قسم کا امن اٹھ گیا، بچوں کا امن اٹھ گیا، لڑکیوں کا امن اٹھ گیا، اپنے ماں باپ سے گھر میں بچوں کو خطرے ہیں اور یہ خطرات بڑھتے چلے جارہے ہیں۔پس اس دور کی کایا پلٹنی ہے تو اعلیٰ اخلاقی نمونوں سے پلٹی جائے گی محض باتوں سے یہ