خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 86
خطبات طاہر جلد 15 98 86 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء فَإِنِّي قَرِيب سے مراد یہ ہے کہ میں ہمیشہ قریب رہوں گا لیکن جب تم استجابت کرو گے، میری باتوں کا جواب دو گے تو ایک اور ایمان تمہارے اندر پیدا ہو گا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس اور ایمان کے مضمون کو بھی بڑی شان اور وضاحت کے ساتھ پیش فرمایا ہے۔فرماتے ہیں انسان کو پتا نہیں ہوتا وہ سمجھتا ہے کہ میرے تعلقات کسی سے درست ہیں مگر جب حقیقت میں درست ہوتے ہیں تو ان تعلقات میں سے ایک اور روشنی پیدا ہوتی ہے اور پھر وہ تعلقات ایک اور شان کے ساتھ قائم ہو جاتے ہیں۔جو خواب میں سوتے ہوئے سمجھ رہا ہے کہ میں جاگا ہوا ہوں اس کو بھی تو ایک ہوش ہے مگر جب جاگنے کے بعد اسے ہوش آتی ہے تو وہ اور ہی قسم کی ہوش ہوتی ہے لیکن جہاں تک خدا کا تعلق ہے ہم ہمیشہ ہی سوئے رہیں گے اور ہمیشہ ہی جاگتے رہیں گے اور ہمارا جا گنا ایسا ہی ہو گا جیسے خواب کے اندر سلسلہ بہ سلسلہ ہم جاگتے چلے جارہے ہیں اور وہ بھی ختم ہی نہیں ہوسکتا۔پس خدا تعالیٰ کا تصور، اس کا عرفان ، اس کے قریب ہونے سے پیدا ہوتا ہے اور جتنا عرفان بڑھتا ہے اتنا وہ قریب ہوتا ہے۔جتنا عرفان بڑھتا ہے اتنا ہی حقیقت میں ایمان بڑھتا ہے کیونکہ عرفان اور ایمان کا آپس میں گہرا جوڑ ہے۔یہ دوالگ الگ چیزیں نہیں ہیں۔الگ الگ کی بھی جاتیں ہیں مگر در حقیقت الگ ہونی نہیں چاہئیں کیونکہ ایک چیز جس کی صفات کا آپ کو علم نہ ہو اس پر ایمان بھی ہو تو وہ کافی نہیں ہے۔ایک جنگل کا پھل آپ دیکھتے ہیں بہت خوبصورت دکھائی دیتا ہے اور خوشبو بھی اچھی ہے ، دل چاہتا ہے آپ تو ڑ کر اسے کھائیں ایمان تو ہے کہ یہ پھل ہے، خوبصورت بھی ہے لیکن یہ پتا نہیں کہ وہ کڑوا کیوں ہے، کسیلا ہے یا میٹھا ہونے کے باوجود بھی زہریلا ہے۔یہ جو دوسرا پہلو ہے اس کو عرفان کہتے ہیں۔یہ علم ہی کی ایک قسم ہے لیکن وہ علم جو آہستہ آہستہ گہرائی میں اترتا چلا جاتا ہے اسے عرفان کہا جاتا ہے ورنہ حقیقت میں علم ہی کی شاخیں ہیں سب۔تو علم کے بغیر اور عرفان کے بغیر خدا تعالیٰ پر ایمان مکمل ہو ہی نہیں سکتا اور نہ اس سے انسان پورا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔پس فَلْيَسْتَجِوانِى وَلْيُؤْمِنُوالی میں یہ دوسرا ایمان یہ معنی بھی رکھتا ہے کہ وہ میری باتوں کا جواب دیں گے تو ایک اور ایمان ان کو نصیب ہوگا میں نسبتاً زیادہ قریب آؤں گا اور یہ قربت جو ہے یہ نہ ختم ہونے والی ہے۔بعض دوریاں بھی نہ ختم ہونے والی ہوتی ہیں۔بعض قربتیں بھی نہ ختم ہونے والی ہوتی ہیں۔جہاں تک انسان کا تعلق ہے انسان کو بھی یہ تجربے ایک دوسرے سے تعلقات میں ہوتے رہتے