خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 911
خطبات طاہر جلد 15 911 خطبہ جمعہ 22 نومبر 1996ء اس کے بعد ان پر نظر رہی لیکن انہوں نے عین ان کے کڑ کڑھوں میں جا کر تبلیغ جاری رکھی چنانچہ پچھلے ایک دو سال کے اندر جب میں نے تحریک کی ہے دعوت الی اللہ کی تو خدا کے فضل سے پندرہ اہل حدیث کو بڑا مضبوط احمدی بنانے کی ان کو توفیق ملی ۔ آخر یہ معاملہ دشمنوں کی برداشت سے باہر نکل گیا تو یہ جمعہ پر جارہے تھے تو ایک پل پر جہاں دشمن تاک لگائے بیٹھا تھا انہوں نے گولیاں برسا کریا کارتوسوں کی فائروں سے ان کو وہیں چھلنی کر دیا۔ وہیں شہید ہو گئے ۔ تو ان کی جو واپسی ہے بڑی عظیم واپسی ہے۔ ایسی واپسی ہے جس کی قرآن ضمانت دے رہا ہے کہ یہ تو مرے بھی نہیں یہ تو زندہ رہنے والے وجود ہیں ان پر نہ تم رونا۔ اپنی فکر کرو کہ تم کیسے واپس جاتے ہو۔ یہ تو ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ تو ان کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ۔ سارا خاندان بڑا بہادر ہے اللہ کے فضل کے ساتھ۔ ان کی اولاد میں بھی وہی وہی رنگ ہیں عظمت کے، جو خلوص سے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ وفا سے پیدا ہوتے ہیں۔ اب باقی جو نماز جنازہ پڑھی جائیں گی ابھی نماز جنازہ ادا ہو گی جن کی وہ غلام رسول صاحب معلم اصلاح و ارشاد ہیں جو ہمارے مبارک احمد ظفر صاحب جو اس وقت نائب وکیل المال ہیں ان کے یہ والد ہیں۔ بہت سادہ مزاج میں جانتا تھا انہیں بہت اچھی طرح ۔ ساری عمر بالکل سادہ کپڑوں میں دیکھنے والا پہچان بھی نہیں سکتا تھا کہ کیسا انسان ہے مگر ساری اولاد کی تربیت بہت ہی پیاری اور اعلیٰ درجہ کی کی ہے اور کبھی کسی کے خلاف شکوہ زبان پر نہیں آیا۔ عنایت علی صاحب کھاریاں، ہمارے اخلاق انجم صاحب کے والد ۔ یہ بھی وہ مبلغین ہیں جن کے والدین یا بزرگوں کو میں نے آج جنازے کے لئے چنا ہے۔ جو دین کی خاطر باہر تھے پیچھے ان کے بزرگوں کی وفات ہوئی ہے یا ملا تو آخری موقع جانے کا ملا۔ مسعودہ بیگم صاحب عبدالسلام صاحب ٹیلر ماسٹر ربوہ کی بیگم اور عبد المنان طاہر صاحب کی والدہ۔ وہ بھی آپ کے مبلغ ہیں جو یہیں اس وقت کام کر رہے ہیں اور راؤ محمد اکبر صاحب جو یہاں آیا کرتے تھے اکثر جلسے پر بڑے ہی فدائی اور بہادر انسان ۔ اپنے علاقے میں یہ احمدیت کے لئے بلا شبہ ایک پر رعب بنگی تلوار تھی جس کی مخالفت کی وہاں جرات نہیں ہوتی تھی پوری۔ اندر اندر مخالفتیں ہوتی تھیں ادھر ادھر لوگوں کو تنگ کیا جاتا تھا مگر راؤ صاحب کے کڑاکے کے سامنے کیونکہ ان کی برادری ان کے ساتھ ہوتی تھی۔ بڑی بہادر اور لڑائی کرنے والی برادری یعنی ان پر ہاتھ ڈالنے کا موقع نہیں ملتا تھا جس طرح پرانے زمانوں میں ہوا کرتا