خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 908 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 908

خطبات طاہر جلد 15 908 خطبہ جمعہ 22 نومبر 1996ء نے خود نام رکھ دیا ہے تو ہم کیسے دخل دیں، یعنی یہ بات حضرت مصلح موعودؓ کا لکھنا یہ ثابت کرتا ہے کہ حضرت چوہدری محمد حسین صاحب کی رؤیا اور کشوف کی سچائی پر آپ کو کامل یقین تھا اور ویسے بھی انکسار کا پھر یہی تقاضا ہے جب کہہ دے خدا نے نام رکھ دیا ہے مگر محض اس وجہ سے نہیں مجھے یقین ہے کہ چونکہ آپ جانتے تھے کہ یہ ایک صاحب کشف انسان ہیں اس لئے یہی لکھنا اس وقت یا صرف یہی لکھنا جائز تھا کہ جب خدا نے نام رکھ دیا تو ہم کیسے دخل دیں۔چنانچہ پھر یہ بڑھے ہیں تو اللہ کے فضل سے دعاؤں کے ساتھ۔اب یہ اتفاقی بات نہیں ہے۔آپ یہ دیکھیں کہ باقی بھی تو بہن بھائی ہیں ان کا تعلیمی کر دار ، بڑے ذہین ہیں ، ہوشیار بھی ہیں، اچھے اچھے مرتبے حاصل کئے ، کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ایسا ہے جیسے کوئی چیز شوٹ Shoot کر کے ایسا او پر نکل جاتی ہے کہ باقی سب چھوٹے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں اس کے مقابل پر ، کوئی نسبت نہیں ہے۔ہر میدان میں ایسے ایسے انہوں نے میڈل بچپن سے حاصل کرنے شروع کئے ہیں، ریکارڈ پر ریکارڈ توڑتے چلے گئے ہیں اور بعض ایسے ریکارڈ جو پھر اور ہو ہی نہیں سکتے۔جب سو فیصدی نمبر لے لو گے تو ریکارڈ کیسے ٹوٹے گا اور پھر جب پاکستان میں ناقدری کی گئی تو انگلستان میں آئے اور انگلستان کی حکومت کی فراخ دلی ہے یا قدر شناسی کہنا چاہئے ، فراخ دلی کا سوال نہیں ، انہوں نے بڑی عزت کا سلوک کیا امپیریل کالج کی پروفیسر شپ کی سیٹ عطا کی اور مسلسل ان کے ساتھ بہت ہی عزت اور احترام کا سلوک جاری رکھا ہے۔پھر اٹلی نے آپ کی عزت افزائی کی۔انہوں نے جو ایک تحریک کی کہ میرے نزدیک وہاں ٹرانسٹی میں ایک سنٹر بنانا چاہئے سائنس کے فروغ کا تو حکومت اٹلی نے بڑا حصہ خرچ کا ادا کیا پھر دوسرے اداروں نے بھی اس میں حصہ لیا اور خاص طور پر غریب ممالک کے بچوں کو تعلیمی سہولتیں دے کر ان کی صلاحیتوں کے مطابق ان کو نقطہ عروج تک پہنچانا ، یہ آپ کا مقصد تھا اور اس میں قطعا ند ہی تعصب کا اشارہ تک بھی نہیں تھا۔غیر احمدی، پاکستانی، غیر پاکستانی، پولینڈ کے لڑکے، عیسائی، دہریہ سب پر یہ فیض برابر تھا جو رحمانیت کا فیض ہے اور اللہ کے فضل سے اس کے ساتھ بنی نوع انسان کو بہت بڑا فائدہ پہنچا ہے۔اب تعلیمی ڈگریاں اور میڈل بیان کرنے کا تو وقت نہیں ہے میں نے جو چیزیں اہمیت کی سمجھیں وہ بیان کر دیں۔اب یہ ہمارا بہت ہی پیارا علموں کا خزانہ، دنیاوی علوم میں