خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 903 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 903

خطبات طاہر جلد 15 903 خطبہ جمعہ 22 نومبر 1996ء آپ کو حساب بھی نہیں آتا تو آپ مجھ سے کیا باتیں کر رہے ہیں۔مگر انتہائی توجہ سے بات سن کر دلیل سے قائل کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ رفتار کے اوپر بحث چلی کہ سائنس کا یہ اور خاص طور پر حساب دانوں کا یہ قطعی نظریہ ہے کہ روشنی کی رفتار سے کوئی چیز آگے نہیں بڑھ سکتی تو میں نے ان سے کہا کہ یہ جو حد لگائی جا رہی ہے یہ میں تسلیم نہیں کر سکتا کیونکہ میرے نزدیک خدا تعالیٰ کے اوپر حد بندی نہیں ہو سکتی ، خالق کے اوپر نہیں ہو سکتی۔حساب کھول دیئے با قاعدہ۔اپنا حساب دان کھول لیا اور نقشے بنائے اور دائرے بنائے اور بتایا کہ یہ دیکھیں حسابی رو سے ناممکن ہے اور فزکس کے نظریہ کے لحاظ سے بھی یہ ناممکن ہے۔میں نے باتیں سمجھیں، میں نے کہا آپ نے جو باتیں کہی ہیں دلیل کے ساتھ کہی ہیں میں دلیل کا انکار نہیں کر سکتا۔مگر میں ایک اور بات آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ یہ بتائیں کہ یہ ساری باتیں آپ کے اس کائنات کے تصور سے وابستہ ہیں اور مشروط ہیں جواب تک آپ پر ظاہر ہوا ہے اور کیا یہ درست نہیں کہ مادہ میڈیم ہے لہروں کے لئے اور اگر مادہ نہ بھی ہو تو کوئی میڈیم ہونا چاہئے اور میڈیم کی صفات ہیں جو رفتار طے کرتی ہے تو کیا ایتھر کے علاوہ کوئی اور میڈیم بھی ہوسکتا ہے۔اگر ایتھر نہیں ہے تو پھر خود یہ محل نظر ہے کہ چیز حرکت میں کیسے رہتی ہے اور ویو (Wave) کیسے بنتی ہے جب کہ دیو (Wave)مادے کی صفت ہے اور حرکت کی صفت نہیں ہے۔یہ بار یک باتیں تھیں ڈاکٹر صاحب کو تو ایک لمحہ نہیں لگا ان باتوں کو سمجھنے میں۔مجھے انہوں نے جواب میں کہا کہ آئن سٹائن تو قائل ہے کہ ایتھر ہے اور ایتھر ہی کی صفات ہیں جو جلوہ گر ہیں مگر باقی سائنس دان قائل نہیں ہوئے ابھی اور ابھی تک قطعی ثبوت کوئی نہیں مل سکا۔میں نے کہا مل سکتا ہے کہ نہیں؟ کہا کہ ہو سکتا ہے۔میں نے کہا اگر ایتھر کے سوا کوئی اور میڈیم ہو جس کی صفات مختلف ہوں تو رفتار بڑھ سکتی ہے !؟ انہوں نے کہا بڑھ سکتی ہے۔میں نے کہا اب یہ بتا ئیں کہ اگر کسی چیز کو مادی میڈیم کی ضرورت نہ ہو اور وہ روحانی وجود ہو؟ آپ خدا کی ہستی کے قائل تھے اس کا انکار کر ہی نہیں سکتے تھے تو اس کو کون سا قانون پابند کرے گا کہ اس کا پیغام روشنی کی رفتار سے ان گنت زیادہ تیزی کے ساتھ جہاں وہ پہنچانا چاہئے پہنچا دے تو اس کے بعد وہ نہیں بولے پھر۔صرف کہا ہاں اصولاً میں مان گیا ہوں یہ ٹھیک ہے یہ ہو سکتا ہے مگر معلوم دنیا میں اب تک جو ہے وہ یہی ہے