خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 904 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 904

خطبات طاہر جلد 15 اس سے میں انکار نہیں کر سکتا۔904 خطبہ جمعہ 22 نومبر 1996ء تو اس رنگ میں ان کے اندر یہ حوصلہ تھا اور یہ انکسار تھا کہ بالکل ان پڑھ، سائنس کے ابتدائی علم سے بھی عاری انسان ، جس کا ماضی ان کے علم میں تھا کیا حیثیت رکھتا تھا کچھ بھی نہیں۔اس سے اتنے بڑے مضامین کے اوپر بڑے حوصلے کے ساتھ گفتگو کرنا، اسے سمجھانے کی کوشش کرنا اور جب کوئی ایسی دلیل دی جائے جو ان کے اپنے عقیدے کے مطابق تسلیم ہونی چاہئے تسلیم کر لی ، کر لیتے تھے تو یہ بھی رفعت کی علامت ہے یعنی انکسار، اور ان دونوں میں تضاد نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے سے وابستہ اور ایک دوسرے پر منحصر ہیں تبھی سجدے کا رفعتوں سے تعلق ہے رفعت ( راء کی زیر کے ساتھ ) لفظ عربی میں تو ہے مگر اردو میں بعض لوگ رفعت ( راء کی زبر کے ساتھ ) بھی کہہ دیتے ہیں اس لئے میں رفعت بھی کہہ دیا کرتا ہوں مگر اصل لفظ رفعت ہے۔تو رفعتیں جو انسان کو عطا ہوتی ہیں ان کا انکساری سے گہرا تعلق ہے۔چنانچہ سجدے میں ربی الاعلی کی دعا سکھائی گئی ہے۔رب سب سے اعلیٰ ہے اور مراد یہ ہے کہ تم نے اس کے حضور جب ماتھا ٹیک دیا ہے جتنا نیچے ہو سکتے تھے ہو گئے ہواب رب اعلی کو یاد کرو تو تم اس سے فیض پاؤ گے اور رفعتیں حاصل کرنے والا اتنا ہی زیادہ جھکتا چلا جاتا ہے۔یہ دونوں مضمون لازم و ملزوم ہیں۔سب سے زیادہ انکسار دنیا میں آنحضرت ﷺ نے دکھایا ہے اور سب سے زیادہ رفعتیں آپ کو عطا ہوئی ہیں۔پس ایک بڑے آدمی کے گزرنے کے ساتھ ان مفاہیم پر گفتگو ہونی چاہئے جو لوگوں کو بڑا بنانے والے ہیں اور سب کے لئے برابر پیغام رکھتے ہوں۔اب علم کے لئے اگر میں کہ بھی دوں کہ دعا کرو کہ اللہ ہمیں سونو بل لا رئیٹ عطا کر دے تو کیا اس کا آخری نتیجہ نکلے گا؟ کیا وہ حضرت محمد رسول اللہ سے بڑھ جائیں گے جنہیں کسی مکتب میں بیٹھنے کی توفیق نہیں ملی۔تمام صاحب علم انسانوں سے اور ذی روح، ذی شعور وجودوں سے علم میں آپ کا وجود آگے بڑھ گیا تو ان رفعتوں کے لئے کیوں نہ دعا مانگی جائے جس میں ہم سب برابر کے شریک ہو جائیں گے۔چھوٹا بڑا غریب ایک تیسری دنیا کا آدمی ، ایک ترقی یافتہ مغربی ملک کا باشندہ ان سب کے لئے قدر مشترک ہے کہ اصل علم کا منبع ، اصل عزتوں کا منبع جس کا علم اور جس کی عزتیں باقی رہنے والی ہیں وہ اللہ کی ذات ہے اسی کی طرف جھکو، اس کی طرف دل لگاؤ تم میں سے ہر ایک کو پھر وہ رفعتیں عطا ہو سکتی ہیں کہ جو اس کے تصور میں بھی نہیں آسکتیں۔