خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 898
خطبات طاہر جلد 15 898 خطبہ جمعہ 22 نومبر 1996ء اس لئے اگر اس وقت سے پہلے کہ دنیا میں انسان کی صف لپیٹ دی گئی کسی کی عزت و جاہ و جلال کا تذکرہ باقی رہ بھی جائے تو اس کی حقیقت کوئی نہیں کیونکہ خدا کے علم میں یا خدا کے فیصلوں میں وقت کی وہ حیثیت نہیں ہے جو انسان کے علم اور فیصلوں میں وقت کی حیثیت ہے۔خدا تعالیٰ کوکوئی زمانہ تقسیم نہیں کرتا۔نہ ماضی ، نہ حال، نہ مستقبل۔ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا اور یہی اس کی ازلیت اور ابدیت ہے جو اس بات کی ضمانت ہے کہ اس کے سوا ہر چیز کو فنا ہے۔کسی چیز کو بھی ازل اور ابد کا دعویٰ نہیں ہے، نہ ہو سکتا ہے اور پہلے جو تو ہمات تھے دنیا کے مثلاً آریہ سماج کا عقیدہ کہ دنیا ازل سے ہے اور بعض یورپین فلسفیوں کا بھی یہ خیال کہ کوئی چیز عدم سے پیدا ہو ہی نہیں سکتی اس لئے ازل سے ہے اس خیال کو کلیہ غلط ثابت کرنے میں ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے بھی ایک عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔پہلے جو یہ خیال تھا کہ پروٹان کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔اس سے پہلے یہ خیال تھا کہ ایٹم Destroy نہیں ہو سکتا اور ایک Law تھا ، یعنی نظریہ نہیں اس کو Law کہتے ہیں۔Indestructibility of Atom جو کچھ مرضی ہو جائے ایٹم Destroy نہیں ہو سکتا اور ڈاکٹر عبد السلام کے دور سے پہلے سائنس دانوں نے ثابت کر دیا کہ ایٹم تو Destroy ہو سکتا ہے اگر نہ ہوسکتا تو ایٹم بم کیسے بن جاتا اور پھر جب کائنات پر زیادہ گہری نظر ڈالی تو Black Hole کا جو تصورا بھرا ہے اور اس کا علم اور اس کی ماہیت سے متعلق جو سائنسی اندازے لگائے گئے تو پتا لگا کہ Black Hole تو بنتا ہی اس وقت ہے جب کہ ایٹم آپس میں کچلے جاتے ہیں اور الیکٹرانز کے فاصلے اپنے مرکز سے اس دباؤ کی طاقت سے جو Gravitational Pull ہے یعنی کشش ثقل اس کے نتیجہ میں یوں آپس میں اکٹھے ہو جاتے ہیں کہ بہت عظیم الشان وسیع کائنات سمٹ کر گویا ایک چھوٹے سے دائرے میں محدود ہو جاتی ہے جو پھر سمٹتا اور پھر سمٹتا ہے اور اپنی طاقت کے زور کے ساتھ ایک خود کشی کر لیتا ہے یعنی وجود اس طاقت کی عظمت کے سامنے جھک کر ایک فنا کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے جس کے متعلق انسان کچھ نہیں جانتا کہ وہاں کیا ہے اس کی پرلی طرف، اس کو کہتے ہیں Event Horizon۔تو یہ حصہ جہاں تک ماضی کا تعلق ہے اس معاملے میں تو سائنس دانوں کی آنکھیں کہ یہ کائنات ازل سے بہر حال نہیں ہے مگر جہاں تک ابد کا تعلق ہے اس بات پر کافی اسکے رہے ہیں کہ پروٹان Indestructible ہے۔ڈاکٹر عبدالسلام صاحب مرحوم و مغفور نے اس نظریہ میں بہت