خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 899
خطبات طاہر جلد 15 899 خطبہ جمعہ 22 /نومبر 1996ء بڑا کام کیا ہے اور بیماری سے پہلے مجھے ان سے اس بارے میں جو گفتگو کا موقع ملا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے Mathematically یعنی حساب کی مدد سے جو ثابت کیا ہے کہ دنیا کی پروٹانز کی عمر اتنی ہے۔نظریہ کے طور پر تو اب سائنس دان اسے قبول کر چکے ہیں لیکن دو تین نظر یے ہیں۔بعض سائنس دان کہتے ہیں اس سے ایک حصہ کم ، بعض کہتے ہیں ایک حصہ زیادہ مگر جو حصہ ہے وہ بھی بہت بڑا تصور ہے اس لئے آپ کو میں عددی تصورات میں الجھانا نہیں چاہتا۔تو 32 Raise to the Power of ہے یا 33 یا 34 ہے یہ بحث چل رہی ہے بس اور 32 اور 34 میں اتنا فرق ہے بظاہر ایک کا فرق ہے لیکن جب Powers میں باتیں کی جاتی ہیں تو اس مقام پر پہنچ کر عام انسانی ذہن اس کا تصور کر ہی نہیں سکتا کہ کتنی بڑی چیز ہے۔مگر سائنسدان اللہ کے فضل کے ساتھ اور حساب دان بہت باریک باتوں کو اپنے استدلال کے ذریعے معلوم کر لیتے ہیں اور کائنات کے کناروں تک کی خبریں اپنے استدلال کے ذریعے حاصل کر لیتے ہیں۔تو ڈاکٹر صاحب نے جہاں تک مجھے یاد ہے 33 Raise to the Power of کا نظریہ پیش کیا تھا اور مجھے بتا رہے تھے بلکہ کئی دفعہ بتایا کہ اس وقت دنیا میں لیبارٹری بڑی بڑی عظیم بے انتہا خرچ کر کے کام کر رہی ہیں۔ان میں ایک امریکہ میں بھی ہے ایک اٹلی میں بھی ہے اور شاید ایک اور جگہ بھی اور اب تک جو خبریں ملی ہیں وہ امید افزاء ہیں۔اگر یہ قطعیت سے ثابت ہو گیا تو ہرگز بعید نہیں کہ ایک اور نوبل پرائز ان کو مل جائے یعنی بطور حق کے ان کو ایسا Nobel Laureate بننے کی توفیق ملے کہ دو دفعہ زندگی میں Nobel Laureate بنیں۔تو یہ ایک دنیا کا انعام واکرام ہے جو ممکن تھا کہ ہو جاتا مگر جہاں تک عقلی تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ کی فضلیت عقل کی روشنی کے لحاظ سے ساری دنیا میں مسلم ہے۔کوئی دنیا کا سائنسدان نہیں ہے جو عظمت کی نگاہ سے آپ کو نہ دیکھے بلکہ اخلاقی قدروں اور عظمت کردار کے لحاظ سے یہ ایک وہ سائنس دان ہے جس کی دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ بھی عزت کرتے تھے اور حقیقت میں ان کے سامنے عظمت کے ساتھ سر جھکاتے تھے۔ڈاکٹر صاحب سے بے تکلف گفتگو میں مجھے انہوں نے کئی دفعہ بتایا کہ فلاں ملک کا سر براہ اس طرح مجھ سے پیش آتا ہے، فلاں ملک کا اس طرح پیش آتا ہے، دعوتیں دیتے ہیں کہ ہمارے پاس آؤ ہم شاہی اعزاز کے ساتھ تمہاری خدمت کر کے