خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 3

خطبات طاہر جلد 15 3 خطبہ جمعہ 5 /جنوری 1996ء اس تمنا کو جو اس کی فطرت میں گھول دی گئی ہے کبھی کسی پہلو سے بھی پوری کر سکتا۔مگر ماں باپ کے تعلق میں جب انسان یہ کر دیتا ہے اور لذت و خوشی محسوس کرتا ہے تو خدا کے تعلق میں بھی اگر ایسا رشتہ نہ ہو اور ایسی خوشی انفاق فی سبیل اللہ کے ساتھ وابستہ نہ ہو تو انفاق فی سبیل اللہ یعنی خدا کی راہ میں خرچ کرنا ضائع ہو جائے گا، خدا کو نہیں پہنچ سکتا۔اس مضمون کو یوں اس مثال کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔جو تم کماتے ہو اس میں سے بہترین چیز پیش کیا کرو۔وَمِمَّا اَخْرَجْنَا لَكُمُ مِنَ الْاَرْضِ اور اس میں سے جو زمین میں سے ہم نے تمہارے لئے اگایا ہے۔اب اس کے علاوہ دوسری آیات میں اور اس آیت کی طرز بیان میں ایک تھوڑا سا فرق رکھ دیا گیا ہے جو ابتدائی آیت ہے ، جس میں انفاق فی سبیل اللہ کا حکم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرہ: 4) جو کچھ ہم انہیں عطا کرتے ہیں اس میں سے وہ دیتے ہیں اور یہاں فرمایا ہے مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُم جو تم کماتے ہو اس میں سے بہترین دو۔یہ اس لئے کہ انسان کے ضمیر کی پیاس بجھے، اس کو وقتی طور پر یہ خیال آئے کہ جو میں نے کمایا ہے اس میں سے دے رہا ہوں۔مگر اس جاہلانہ خیال کی نفی کرنے کے لئے کہ جو تم نے کمایا ہے گویا تم ہی گھر سے لے کر آئے ہو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جو کچھ زمین اگاتی ہے وہ ہم ہی تو اگاتے ہیں عطا کا آغا ز ہم سے ہے مگر پھر بھی تم نے محنت میں حصہ لیا ہے، محنت کر کے اس میں حصہ ڈال لیا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ تم اپنی محنت سمجھو اور اپنی محنت میں سے جو بہتر حصہ ہے وہ ہمارے حضور تحفے کے طور پر پیش کرو اور یہ نہ کرنا وَ لَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ جو پلید چیز ہے جو خبیث اور گندی چیز ہے ہمارے نام پر وہ نہ نکالا کرنا کیونکہ وہ نکالو گے تو تمہارا خبث باطن ہی نکلے گا اور کوئی خبیث اور پلید چیز خدا کو نہیں پہنچ سکتی۔وہ چٹی بھی ہے تو ذلیل قسم کی چٹی پڑ گئی ہے تم پر اور اللہ کو ایسی قربانیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور پہچان یہ رکھ دی کہ وہ چیز میں خدا کو مقبول نہیں ہیں جو تم اگر وصول کر و تنفِقُونَ جب تم خرچ کرتے ہو تو اگر وہ چیزیں تمہیں عطا ہوں تو تمہاری آنکھیں شرم سے جھک جائیں وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وہ چیزیں پلید نہ پیش کرو جو تم دیتے ہو خرچ کے طور پر وَلَسْتُم بِاخِذِیہ لیکن جب لینا پڑے تو ایسی پلید چیز قبول نہیں کرتے اِلَّا اَنْ تُغْمِضُوا فِیهِ سوائے اس کے کہ نظریں جھکا کر ، شرم پیتے ہوئے ، بے چینی کے ساتھ ایک مجبوری کے طور پر قبول کر لو لیکن باوجود اس کے سخت خفت محسوس کر رہے ہوتے