خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 2 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 2

خطبات طاہر جلد 15۔2 خطبہ جمعہ 5 جنوری 1996ء یہ مضمون اس طرح بیان فرمایا کہ دیکھو جب تم خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو تو اے ایمان والو! طیبات میں سے خرچ کیا کرو مَا كَسَبْتُم جو کچھ بھی تم کماتے ہو ان میں سے بہترین چیز پیش کیا کرو کیونکہ جب ایک دوسرے کو تم تحائف پیش کرتے ہو تو جتنا کسی سے زیادہ تعلق ہو ، جتنا کسی کی عزت ہو ، جتنا کسی کا احترام ہو اسی قدر تحفہ چنتے وقت انسان اپنی ملکیت میں سے بہترین چنتا ہے۔اگر باغوں والا ہے تو پھل وہ چنے گا جو چوٹی کا پھل ہے اور تاجروں کی طرح نہیں کرتا کہ گندہ پھل شامل کر کے تو اوپر دو چار پھل رکھ دیئے تا کہ اچھی چیز قبول ہو جائے ، قیمت مل جائے خواہ بعد میں پتا چلے کہ یہ تو نہایت ہی گندی اور غلیظ چیز تھی جس کا سودا کیا گیا ہے تو اللہ سے تو دھو کہ ہونہیں سکتا لیکن دنیا میں بھی انسان اپنی محبتوں اور تعلقات کی قدر کرتا ہے اور اپنے پیاروں سے دھو کے نہیں کیا کرتا۔تاجر دھو کے کرتا ہے ،محبت کے ساتھ پیش کرنے والا دھوکہ نہیں کرتا تو فرمایا تمہارا تو میرے ساتھ ایک محبت کا سودا ہے اور دوسرے یہ کہ ہم نے تمہیں دیا ہے۔اس لئے جب ہم نے دیا ہے تو پھر اگر تم گندی چیز دو گے تو تمہارا بہت گہرا نقصان ہوگا ایک تو یہ کہ تحفہ نا مقبول ، دوسرے تم یہ ہمیں نمونہ دکھا رہے ہو گے کہ ہم تو گندی چیزیں دیا کرتے ہیں۔ہمیں بھی پھر گندی ملنی چاہئے اور احسان فراموش کو تو حقیقت میں کچھ بھی نہیں ملا کرتا۔تو خدا نے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے تو نہیں مانگا خدا نے تو ہماری ضرورتیں پوری کرنے کے لئے مانگا ہے اور یہ ضرورتیں دو طرح سے پوری ہوتی ہیں۔اول تزکیہ نفس، دوسرے احسان کا بدلہ اتارنے کی جو تمنا ہے وہ کچھ نہ کچھ پوری ہو جاتی ہے۔بسا وقات عید پر بچے بھی ماں باپ کے لئے تحفے لے کر آتے ہیں حالانکہ سب کچھ وہی دیتے ہیں۔انہی سے وظیفے ملتے ہیں، انہی سے ماہانہ اخراجات عطا ہوتے ہیں ، انہی کا کھانا کھاتے ہیں ،انہی کے گھر میں رہتے ہیں مگر جب وہ عید یا کسی اور ایسے موقع پر تحفہ پیش کرتے ہیں تو ماں باپ کا دل خوشیوں سے اچھلنے لگتا ہے۔اس تھنے کو جو پیار اور محبت سے سجا کر پیش کرتے ہیں وہ قبول کرتے ہیں جیسے ان کو ایک دنیا جہان کی نعمت مل گئی ہو تو یہ محبت کے سلسلے اور ہیں، ان کا نظام اور ہے، ان کے قوانین مختلف ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ ہم نے تمہیں عطا کیا ہے جب ہم تجھ سے مانگتے ہیں تو ایک پیار کا اظہار ہے تاکہ تمہیں بھی محبت کے سلیقے آئیں تا کہ تمہاری بھی یہ خواہش پوری ہو کہ جس نے ہمیں سب کچھ دیا ہے کبھی ہم بھی تو اسے کچھ دیں۔اگر خدا نے یہ نظام نہ قائم کیا ہوتا تو ناممکن تھا کہ انسان