خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 883
خطبات طاہر جلد 15 883 خطبہ جمعہ 15 /نومبر 1996ء تو خدا کی تقدیر یہ فیصلے کرتی ہے کہ کب موسم آیا ہے پھل کے پکنے کا، کب نیک روحوں کو سمیٹنے کی کوشش ہونی چاہئے ، کب خدا کی طرف سے آسمان سے ایسے نشان اتریں کہ نیک روحیں ان نشانات کو دیکھ کر خدا کے رستے کی طرف متوجہ ہوں۔یہ سب وہ تقدیر کے پہلو ہیں جو ہمیں دکھائی نہیں دے رہے مگر اللہ کی ہر بات سوچی سمجھی ایک تدبیر کے مطابق رونما ہوتی ہے۔۔پس اس دور میں اللہ کوحسن کی تلاش ہے اور وہ آپ کی کوشش کے بغیر بھی اکٹھے کر کر کے لا رہا ہے۔پس جو آپ کی کوشش ہے اس کو جب پھل لگتے ہیں تو دراصل یہ بھی خدا ہی کی تدبیر کا ایک حصہ ہے اور خدا کی تدبیر کو تقدیر بھی کہتے ہیں۔اللہ اس کو تدبیر بھی کہتا ہے قرآن کریم میں۔يُدَبِّرُ الْأَمْر (یونس: 32) وہ تقدیروں کے فیصلے ، امر یہاں تقدیر ہے، اللہ تدبیر کے ذریعے کرتا ہے۔تو تقدیر سے بالا ایک تدبیر ہے جو خدا کی تدبیر ہے۔تو اس پہلو سے خدا کی تدبیر نے جو تقدیر ہم پر کھول دی ہے وہ تمام دنیا کی سعید روحوں کو ایک ہاتھ پراکٹھا کرنے کی تقدیر ہے۔اس کے لئے خدا تعالیٰ نے جو ہمیں طریق سمجھائے ہیں ان میں سے یہ ایک طریق ہے جو میں آپ کو سمجھا رہا ہوں اچھے لوگوں کی تلاش کریں اللہ کو ان کی ضرورت ہے اور جن میں کم حسن ہے ان میں حسن پیدا کریں کیونکہ جو نسبتا کم حسن رکھتے ہیں ان کو حاصل کرنے کے لئے محنت زیادہ کرنی پڑتی ہے تو آپ کا فرض ہے کہ پھر حسن پیدا کریں۔اگر آپ حسن نہیں پیدا کریں گے تو آپ کے ہاتھ وہ پھل نہیں لگیں گے جن کی آپ کو حرص ہے اور حرص بھی بے جا ہے کیونکہ گندوں کو شامل کرنا اور نام کے طور پر تعداد بڑھانا یہ تو دعوت الی اللہ کا مقصد ہی نہیں ہے۔دعوت الی اللہ کے نتیجے میں یہ تعداد بڑھتی ہے تو نیکی کو تقویت دینے کی خاطر بڑھتی ہے اور اس پہلو سے تعداد کا بڑھنا مفید ہے۔مگر گند اکٹھا کر لیں ، بد اکٹھے کر لیں تو یہ دعوت الی اللہ کے مقصد کے بالکل منافی مقصد ہے بلکہ جو کچھ دعوت الی اللہ ہوئی ہے اس کو نقصان پہنچانے والا مقصد ہے۔تو آپ یا درکھیں آپ نے پہلا کام اچھوں کی تلاش، دوسرا کام اچھی باتیں تلاش کر کے ان کو ابھارنا اور ان کے ذریعے حسن کو بڑھانا ہے اور یہ جو کام ہے اس کے لئے بھی حکمت چاہئے تبھی خدا تعالیٰ ہمیشہ دعوت کے مضمون کے ساتھ حکمت کا مضمون باندھتا ہے۔اب ایک شخص کی خوبی کو پہچان لیں اور اس کا ذکر اس سے کریں تو خواہ وہ کیسا ہی بد ہو اس کا دل دراصل یہی چاہتا ہے کہ میں اچھا ہوں اور جب کوئی شخص اس کی کسی اچھی بات پر نظر ڈالے تو وہ