خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 882
خطبات طاہر جلد 15 882 خطبہ جمعہ 15 نومبر 1996ء جب ان پر آپ نظر ڈالتے ہیں تو اتفاق نہیں بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تقدیر جاری ہو رہی ہوتی ہے اس لئے وہ اتفاق نہیں کہلا سکتے ۔ چنانچہ خدا کے بہت سے ایسے نیک بندے جن تک پیغام پہنچا ہے ان کے حالات جب مجھ تک پہنچے ہیں تو ایک نہیں بے شمار ایسے شواہد دکھائی دیتے ہیں ایسے گواہ مہیا ہو جاتے ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں اس کے حق میں گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کی نظر ان پر پڑی تھی تو پھر حالات کو اس کے مطابق اس کو حاصل کرنے کے لئے ساز گار فر ما دیا گیا۔ چلتے چلتے بظاہر ایک حادثے کے نتیجے میں اس کا رخ بدل جاتا ہے، بظاہر اتفاقاً ایک احمدی کے دروازے پر دستک دیتا ہے بظاہر ان بظاہر اتفاقا اسے اندر بلا لیا جاتا ہے، بظاہر اتفاقاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تصویر وہاں لٹکی دکھائی دیتی ہے اور بظاہرا تفاقا اسے پہلے سے ہی خواب آئی ہوئی ہے کہ یہ وجود ہے جو مجھے بلا رہا ہے۔ تو سب جگہ کہنے والا کہے گا اتفاقا، اتفاقا، اتفاقاً، لیکن جو اس مضمون کو سمجھتا ہے وہ کہے گا بظاہر اتفاقا ۔ دیکھنے والا اتفاقاً بھی کہہ سکتا ہے مگر اتفاق کے سلسلے کو اتفاق نہیں کہہ سکتا۔ ہر چیز اتفاقاً ہو سکتی ہے، اتفاقا اس نے کہیں تو جانا تھا رستہ بھولنا تھا تو کسی گلی میں تو نکلنا تھا، اتفاقا کسی کا دروازہ تو کھٹکھٹانا تھا مگر اگر ہر اتفاق ایک خاص رخ کی طرف آگے بڑھ رہا ہو ، اگر وہ گلی احمدی کی گلی نکلے، اگر وہ دروازہ احمدی کا دروازہ نکلے، وہ احمدی موجود ہو اور ایسا حسن خلق رکھتا ہو کہ دروازہ کھٹکھٹانے والے کو اندر آنے کی دعوت دے اور اس کی خاطر مدارات کرے اور وہاں تصویر لٹکی ہو جوا اتفاقاً بھی ہو سکتی تھی مگر اسی کمرے میں بٹھائے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر ہوا اور پھر خواب آئی ہو تو اتفاقاً اب بتائیں کون پاگل ہے جو ان سب باتوں کو اکٹھا اتفاق کہے گا ؟ تو ہر اتفاق میں تنہائی پائی جاتی ہے۔ جہاں دو اتفاق اکٹھے ہوں وہاں اتفاق کی بجائے کسی تجویز کا مضمون ابھرتا ہے کہ مجوزہ بات ہے۔ کوئی تین ہو جائیں تو اور بھی زیادہ اس بات کا امکان شروع ہو جاتا ہے کہ سوچی سمجھی تدبیر ہے اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو پھر تو اتفاق کہنا ہی حد سے زیادہ بے وقوفی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بلانا ہے اور اللہ تعالیٰ ویسے ہی نیک بندوں کا رخ اس طرح پھیر رہا ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ۔ و آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مردوں کی ناگہ زندہ وار در شین اُردو: 1030)