خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 877 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 877

خطبات طاہر جلد 15 877 خطبہ جمعہ 15 رنومبر 1996ء خاطر مہمات جاری کرتے ہیں، قیام امن کی خاطر لڑائیاں کرتے ہیں قیام امن کی خاطر ہم نے یہ بڑے بڑے اہم فیصلے کئے ہیں جو غریب قوموں پر زبردستی ٹھونسیں گے۔یہ سارے دعاوی جھوٹ پر مبنی ہیں کیونکہ ان دعاوی کے بعد ہم نے دنیا میں امن بڑھتا تو کبھی نہیں دیکھا فساد پھیلتے ضرور دیکھے ہیں۔بدامنی پھیلتی ہے ہر جگہ ظلم وسفا کی کا دور دورہ ہوتا ہے۔پس جو مقصد اپنی ذات سے متصادم ہو جائے اس کے اندر ایک اندرونی تضاد ہو وہ مقصد یقیناً جھوٹا ہے اور بے کار ہے اور اس سے کوئی بھی فائدہ بنی نوع انسان کو نہیں پہنچ سکتا۔پس داعین الی اللہ کی ہدایت کے لئے میں نے یہ آیت چنی ہے۔میں آپ کو اب سمجھانا چاہتا ہوں کہ اس میں اور کیا کیا مضامین شامل ہیں۔پہلی بات تو وَاللَّهُ يَدْعُوا إِلَى دَارِ السَّلْمِ اس کو بھول کر آپ نے کوئی پیغام نہیں پہنچانا اور سلامتی کی طرف کیسے بلا سکتے ہیں اگر آپ کو سلامتی نصیب نہ ہو۔پس یہ دوسرا پہلو ہے جو بہت ہی اہم ہے۔اللہ کا نام سلام ہے اس لئے جب آپ خدا کی طرف بلاتے ہیں تو یہ آیت بتا رہی ہے کہ دار السلام کی طرف بلا رہے ہیں اور اللہ کا نام بھی سلام ہے۔پس آپ میں اگر سلام نہ ہو تو آپ سلام کی طرف بلا ہی نہیں سکتے اور امر واقعہ یہ ہے کہ ہر انسان اگر اپنی فطرت، اپنی طبیعت، اپنے مزاج کا جائزہ لے تو اسے خوب اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے کہ اس کی شخصیت کے کون کون سے پہلو سلام سے خالی ہیں۔ان میں بدامنی ہے، ان میں بے چینی اور بے قراری ہے اور تضادات کے نتیجہ میں یہ باتیں پیدا ہوتی ہیں۔پس دار السلام کی طرف بلایا جاہی نہیں سکتا جب تک کہ بلانے والی شخصیت اس بات کا جہاد نہ کرے کہ اس کے اندر سلام پیدا ہونا شروع ہو جائے اور اس کا گھر دار السلام ہو جائے کیونکہ اللہ تو دار السلام کی طرف بلاتا ہے۔اگر بلانے والا دار السلام اپنے اندر رکھتا ہی نہ ہو تو وہ دار السلام کی طرف بلانے کا مجاز نہیں۔اگر مجاز ہے یعنی خدا نے فرمایا ہے کہ بلاؤ تو بلائے گا تو سہی مگر بے کار بلائے گا اس کا نتیجہ کوئی نہیں نکل سکتا۔وَيَهْدِي مَنْ يَّشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ فرمایا، بلاتا تو ہے مگر زبردستی نہیں بلاتا اور پہچانتا ہے کہ کون اس لائق ہیں کہ وہ اس گھر کی طرف لے جائے جائیں۔پس جب اللہ تعالیٰ مَنْ تَشَاءُ فرماتا ہے تو یہ مراد نہیں ہے کہ ایسا فیصلہ کرتا ہے جو جبری فیصلہ ہے جیسے انسان جو چاہے کرے۔جب یہ آپ کہتے ہیں کہ انسان جو چاہے کرے تو ہمیشہ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک