خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 876 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 876

خطبات طاہر جلد 15 کے مضامین سے۔876 خطبہ جمعہ 15 رنومبر 1996ء جہاد کی جو تعریف قرآن کریم نے مختلف جگہ کی ہے وہ بنیادی طور پر وہی ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔ہر وہ چیز جو خدا کے قرب پر منتج ہو جس کے نتیجے میں خواہ نفس اللہ کے قریب آئے یا لوگ اللہ کے قریب آئیں وہ ہر کوشش جہاد ہے۔تو جہاد کا مرکزی معنی کوشش کا ہے اور اسلامی اصطلاح میں وہ کوشش جو خدا کے قریب کرے اسے جہاد کہتے ہیں اور دعوت الی اللہ کا مقصد کیا ہے۔اس کا مطلب جنگ اور فساد نہیں ہے بلکہ امن کا قیام ہے۔یہ دو آیات جن کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس مضمون کو نہ صرف بیان کرتی ہیں بلکہ درجہ کمال تک پہنچاتی ہیں۔ہم یہ کہتے ہیں ہم خدا کی طرف بلا رہے ہیں۔اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ (النحل: 126) کے ارشاد میں اللہ نے فرمایا ہے اپنے رب کے رستے کی طرف بلاؤ ہم خدا کی طرف بلا رہے ہیں۔مگر کیسے بلانا ہے، کیا مقاصد ہیں، ان کے اوپر روشنی ڈالنے والی یہ آیت ہے۔وَاللهُ يَدْعُوا إِلَى دَارِ السَّلْمِ یہ تو ممکن نہیں کہ اللہ سلامتی کی طرف بلا رہا ہو اور آپ اللہ کی طرف بلا رہے ہوں اور اس کا نتیجہ جنگ ہو، آپ اللہ کی طرف بلا رہے ہوں اور اس کا نتیجہ فساد ہو اور سلامتی کے برعکس ہو۔تو اصل بلا نا خدا کا بلانا ہے۔وہی داعی الی اللہ ہے جو خدا کی آواز کے مطابق بلاتا ہے، جس طرف خدا بلا رہا ہے اسی طرف وہ بھی بلا رہا ہو اس لئے اس دعوت الی اللہ کی تشریح یہ ہے کہ تم تو اللہ کی طرف بلا رہے ہو مگر یاد رکھنا کہ تمہارا بلاوا سلامتی کی طرف ہونا چاہئے کیونکہ خدا کا بلاوا سلامتی کی طرف ہے۔تو کیسے خدا کی طرف بلاؤ گے جب بلاؤ گے فساد کے رنگ میں اور فساد پیدا کرتے ہوئے اور ظلم کے ساتھ اور سفا کی کے ساتھ ، تو خدا کی آواز اور ہوگی تمہاری آواز اور ہوگی۔خدا ایک اور طرف بلا رہا ہو گا، تم ایک اور طرف بلا رہے ہو گے تو یہ دونوں باتوں میں انطباق نہیں ہوتا۔پس یہ آیت بہت ہی اہم ہے اس نقطہ نگاہ سے کہ خدا کی طرف بلانا کس کو کہتے ہیں اور اس کے مقاصد کیا ہیں اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کے ساتھ کیا سلوک فرماتا ہے۔پہلے تو فرمایا وَ اللهُ يَدْعُوا إِلى دَارِ السَّلْمِ اللہ تو امن کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔اگر ساری دنیا دعوت الی اللہ کے نتیجے میں دعوت الی اللہ کو قبول کر لے تو مراد یہ ہوگی کہ تمام دنیا دار السلام بن جائے ، ساری دنیا امن کا گھر بن جائے۔پس دیکھو دنیا میں کتنے دعاوی کرنے والے ہیں کہ ہم قیام امن کی