خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 875
خطبات طاہر جلد 15 875 خطبہ جمعہ 15 رنومبر 1996ء ہر وہ فعل جو خدا کی محبت دلوں میں پیدا کرے اور اسے قریب لائے وہ حقیقی جہاد ہے۔(خطبه جمعه فرموده 15 /نومبر 1996ء بمقام بيت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں : وَاللهُ يَدْعُوا إلى دَارِ السَّلْمِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرَ وَلَا ذِلَّةٌ أُولَبِكَ اَصْحَبُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خُلِدُونَ پھر فرمایا: (یونس : 27،26) آج کل خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمد یہ ایک عالمی جہاد میں مصروف ہے جو دعوت الی اللہ کا جہاد ہے جو تمام جہادوں سے افضل اور اعلیٰ اور درحقیقت جہاد کی غایت ہے۔جہاد کا قیام ہی اللہ کی طرف بلانے کی غرض سے ہے۔ہر وہ فعل جو خدا تعالیٰ سے پرے دھکیلے وہ جہاد کا برعکس ہے۔ہر وہ فعل جو خدا کی محبت دلوں میں پیدا کرے اور اسے قریب لائے وہ حقیقی جہاد ہے اس لئے تلوار کے جہاد کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔وہ تلوار جو خدا کی محبت اور خدا کی طرف بلانے کے نام پر اٹھائی جائے اور قتل و غارت پر منتج ہو اس سے خدا تعالیٰ کی محبت تو نہیں بڑھ سکتی اس لئے اس چیز کا نام جہا درکھنا گناہ ہے اور قرآن کریم کے واضح ارشادات سے متصادم ہے، بالکل ٹکراتا ہے قرآن کریم