خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 82 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 82

خطبات طاہر جلد 15 82 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء ساتھیوں کو جو بہت اونچی آواز سے تسبیح کر رہے تھے فرمایاذ راتل سے کرو، آرام سے بات کرو، جس خدا کو تم پکار رہے ہو وہ بہرہ تو نہیں ہے، وہ دور تو نہیں ہے، وہ سن رہا ہے۔حالانکہ بسا اوقات بلند آواز سے بھی آنحضرت ﷺ نے تکبیر کی اور نبیح وتحمید میں بھی بلند آواز سے کام لیا۔مگر مراد یہ تھی کہ بعض دفعہ انسان محض دکھاوے کے لئے ، رسم و رواج کے طور پر ، ایک مشغلہ بنا کر اونچی آواز میں کرتا ہے جو حضور اکرم ﷺ کو پسند نہیں تھی۔اس لئے آنحضور ﷺے مومن کو ہمیشہ معنی خیز کام کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔بامعنی بات، سچی بات، دل کی گہرائی تک سچی ہو۔اونچی آواز ہو تو وہ بھی ایک سچی وجہ سے اونچی آواز ہو۔دھیمی آواز ہو تو وہ بھی ایک کچی وجہ سے دھیمی آواز ہو۔مگر ضمنا یہ بھی تو بتایا کہ وہ تو ساتھ ہی ہے۔تم دل میں بھی بات کرو گے تو وہ ضرور سن لے گا اور وہ جانتا ہے، ہر بات پر نظر رکھتا ہے۔پس فَإِن قَرِيیب کا یہ معنی ہے اور جو اتنا قریب ہو اس کا قرب محسوس ہو اس کے متعلق یہ نہیں پوچھا جائے گا وہ ہے کہ نہیں ہے ، وہ کہاں ہے، پس یہ سوال ناجائز ہیں۔یہ پہلو جائز ہے کہ آپ جانتے ہیں اس کے رستے کو ہمیں بھی وہ طریقے دکھائیں، ہمیں بھی وہ سکھائیں گر جن پر چل کر ، جنہیں استعمال کر کے ہم اللہ کے ان معنوں میں قریب ہو جائیں جن معنوں میں آپ ہیں اور اس پہلو سے قریب کا معنی یہ ہوگا أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ آپ کی دعا ئیں وہ سنتا ہے۔آپ جب بھی اسے پکارتے ہیں وہ جواب دیتا ہے۔ہم اپنی ذات پر فضل نازل ہوتے اس طرح نہیں دیکھ رہے۔پس وہ خدا جو قریب ہے اور ہم نے جان لیا آپ کے وجود پر غور کر کے کہ یقیناً قریب ہے اس کا ہمیں تو بتائیں کہ کیسے اس تک پہنچنا ہے۔یہ اس پہلو سے اور معنی بن جاتے ہیں۔اس مضمون کے ایک پہلو سے دعوت عام ہے کہ ہر کوئی شخص مطمئن ہو جائے تسلی پا جائے کہ اس کا خدا دور نہیں ہے۔ہر وقت اس کے ساتھ ہے مگر اسے محسوس کرنا ہوگا۔دوسرا یہ کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ دعوتوں کا جواب ویسا آنا چاہئے جیسا کہ تم چاہتے ہو تو تم نے ٹھیک پوچھا ہے محمد مصطفی صلی اللہ جانتے ہیں اور آپ ہی کی زندگی کا لمحہ لحہ اس بات پر گواہ ہے کہ میں قریب ہوں۔پس فَانّي قَرِيب ان معنوں میں محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات کے حوالے سے یہ معنی دے گا کہ ان کو بتاؤ مجھے دیکھتے نہیں مجھ سے جو پوچھ رہے ہو تمہیں پتا نہیں کہ خدا میرے کتنے قریب ہے، ہر وقت میری دعاؤں کو سنتا ہے ، ہر پکار کا جواب دیتا ہے، پس اگر تم نے طریق پوچھنا ہے تو وہ