خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 865 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 865

خطبات طاہر جلد 15 865 خطبہ جمعہ 8 نومبر 1996ء خواہ آگے اولاد میں ان سب نیکیوں سے محروم رہ گئی ہوں اور کہتے ہیں وہ ہمارے بڑے تھے اور جب آپ ان کی قربانیوں کا ذکر کریں گے کہ دو آنے دئے تھے یا چار پیسے دئے تھے یا چادر اتار دی تھی تو اس سے تفاخر کیسے پیدا ہو سکتا ہے، اس سے سوائے انکسار کے کچھ پیدا نہیں ہوسکتا۔یہ تو وہی مضمون ہے جو ایاز اور محمود کا مضمون ہے۔ایاز جب اپنے پرانے کپڑے دیکھتا تھا تو فخر کے لئے تو نہیں دیکھتا تھا ان گلے سڑے کپڑوں میں ، اس ٹوٹے ہوئے صندوق میں کیا بات تھی جو ایاز کو کھینچے لئے چلی جاتی تھی۔راتوں کو چھپ کر جا تا تھا، دیکھتا تھا انکسار کی خاطر ، اس لئے کہ کہیں میں بھول نہ جاؤں شاہی انعامات کے نتیجے میں کہ یہ میرا آغاز تھا یہ میری طاقت ، جو کچھ بھی پونچی تھی یہی کچھ تھا ان کپڑوں سے نکلا ہوں تو شاہی محلات میں جا کے خلعتیں عطا ہوئی ہیں۔تو تحریک جدید کی جو یادیں ہیں وہ بھی دراصل ایاز کی پونچی کی یادیں ہیں لیکن ایاز کی پونچی تو گل سڑ گئی ، ان بزرگوں کی پونچی گلی سڑی نہیں وہ بڑھتی چلی گئی ہے اور آج آپ کے تفاخر ، آپ کی جو بھی چیزیں ہیں اگر آپ ان کو یاد نہیں رکھیں گے تو پھر آپ میں فخر پیدا ہوگا ، اگر اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو یا درکھیں گے تو کبھی کوئی فخر کا سوال نہیں۔یہ مضمون میں اس لئے تحریک جدید کے اعلان سے پہلے بیان کر رہا ہوں کہ اب جو میں اعداد و شمار آپ کے سامنے رکھوں گا آپ حیران رہ جائیں گے کہ جماعت کتنی ترقی کر چکی ہے لیکن اپنا وہ پرانا بکس نہ بھولنا جس میں آپ کے پرانے کپڑے ہیں کہ ان کپڑوں نے ہی برکت بخشی ہے انہی عظیم بزرگوں کی قربانیاں ہیں جواب یہ رنگ لائی ہیں اور ابھی آپ میں بہت گنجائش ہے۔ان میں تو جتنی تھی وہ ساری پوری کر دی تھی انہوں نے غریب لوگ تھے اس سے زیادہ کی طاقت ہی نہیں تھی۔مگر جماعتوں میں جہاں میں ذکر کروں گا بہت عظیم قربانیاں ہیں مگر اس کے باوجود ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو میری نظر میں بھی ہے اور نظر میں نہیں بھی ہے جس کو استطاعت زیادہ ہے اور ابھی تک وہ اپنی استطاعت کے مطابق قربانی نہیں کر رہے۔جب کوئی اچھا منتظم آکر ان کے دلوں میں ہیجان پیدا کر دیتا ہے قربانی کی روح ان کے اندر از سرنو زندہ ہونے لگتی ہے تو پھر خدا کے فضل سے ان جیبوں میں سے بہت کچھ نکل آتا ہے جو پہلے خالی دکھائی دیتی تھیں۔تو ابھی بھی ان سب عظمتوں کے باوجود جو قربانی میں ہم نے حاصل کیں ان پہلی نسلوں کی قربانی کا ہم مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ جس خلوص اور محبت اور پیار سے اپنی ساری توفیق کو استعمال