خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 863 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 863

خطبات طاہر جلد 15 863 خطبہ جمعہ 8 نومبر 1996ء آئے انہوں نے کہا مجھے امریکہ میں ایک نوکری ملی ہے اتنی زیادہ آمد ہے کہ میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ اتنی آمد ہے۔میں نے کہا تم بڑے اچھے رہے ہو گے انٹرویو میں۔انٹرویو، کیا خاک میں نے انٹرویو دیا۔انٹرویو لینے والا اتفاق ایسا ہوا کہ وائس پریذیڈنٹ خود تھا اس نے دو باتیں کیں۔اس نے کہا تم پاس ہو باقیوں کے Que لگے ہوئے تھے۔انٹرویو دینے والوں کے بورڈ میں کتنے ہی آئے ، ناکام ہوئے۔اس نے دیکھا پہچان لیا کیونکہ وہ طاقت بھی رکھتا تھا اور فراست بھی ، اس نے کہا باتیں کرو بس، چلو اب جاؤ بھا گوتم ، پیش ہو جاؤ کام کے لئے اور جو اس کی Salary میں نے بھی سنی ، میں آپ کو بتاتا نہیں اس کا ذاتی راز ہے ، مگر میں حیران رہ گیا اور چونکہ جانتا ہے کہ اللہ کا فضل ہے وہ اس ارادے کا اظہار کر کے گیا کہ سوال ہی نہیں اب میرے لئے کہ چندوں میں کسی قسم کی کمی کروں ، پہلے وہ حق ادا کروں گا خدا کے شکرانے کے طور پر پھر باقی کاموں میں، چیزوں میں برکت پڑے گی۔تو یہ مالی نظام جو قرضے کا نظام ہے اس کو اس پہلو سے اس پس منظر میں سمجھیں گے تو سمجھ آئے گی ورنہ لوگ پاگل کہہ دیتے ہیں کہ اللہ کو قرضے کی کیا ضرورت ہے ، اللہ غریب ہے اللہ فقیر ہے؟ اور یہ پاگل پہلے بھی ہوتے تھے اب بھی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ کہتے میں اِنَّ اللهَ فَقِيرٌ وَ نَحْنُ أَغْنِيَاءُ (آل عمران: 182) ہم اغنیاء میں اللہ فقیر ہے ہمارے پاس آئے ہیں پیسے دو لیکن کیسے دیتا ہے، کیسے لیتا ہے اور پھر کیا سلوک فرماتا ہے وہ مضمون دیکھ لیں تو انسان حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ناممکن ہے کہ خدا کے سلوک کو دیکھ کر کوئی ایسی بے حیائی کا کلمہ تصور میں بھی لا سکے۔جو لیتا ہے دیا بھی تو اسی نے تھا یہ بھی نہیں سوچتے بے وقوف اور لیتا کیسے عذر رکھ کے، کیسی عزت نفس کو قائم کرتے ہوئے لیتا ہے یہ نہیں کہتا میں نے تمہیں دیا ہے مجھے واپس کر دو۔یہ بھی کہتا ہے بعض جگہ لیکن اور رنگ میں ، مجھے اس طرح واپس کرو کہ غریبوں کو دے دو۔جہاں دین کی ضرورت ہے وہاں یہ ایک انداز ہے کہتا ہے قرضہ دو تیم قرضہ دیتے تو ہولوگوں کو تمہیں ایک قرضے سے منع کیا ہے اور ایک اور قرضے کا دفتر کھول رہا ہوں اور اس قرضے کے بعد پھر تمہیں کبھی کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ساری جماعت کی تاریخ گواہ ہے کہ ایسے ہی ہوا ہے۔دو دو آنے دینے والوں کو خدا نے ایسی برکتیں دیں، ان کی اولادوں کی کایا پلٹ کے رکھ دی ہے۔اگر وہ یا درکھیں کہ یہ کیوں آسمان سے