خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 860
خطبات طاہر جلد 15 860 خطبہ جمعہ 8 نومبر 1996ء مَنْ ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا کون ہے جو اللہ کو قرضہ حسنہ دے فَيُضْحِفَهُ لَهُ وَلَهُ أَجْرٌ كَرِيم وہ اس قرضے کو اس کے لئے بڑھادے اور پھر اجبر کریم اس کا باقی رہے یعنی قرضے کو بڑھانا اس قرضے کی جز انہیں ہوگا بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ جب بھی کچھ لیتا ہے بڑھا کر ہی دیتا ہے تو اس کا سب حساب چکا دیا جاتا ہے۔اسے اس سے بڑھ کر دیا جاتا ہے جو اس نے دیا، بہت بڑھ کر دیا جاتا ہے اور اجر کریم پھر بھی باقی ہے، وہ معزز اجر جو اس کا باقی دنیا کے خدمت کرنے والوں سے ممتاز کر دے گا۔تجارت میں روپیہ لگانے والوں سے ان کا مقام کہیں سے کہیں بڑھا دیتا ہے وہ اس کے علاوہ ہے اللہ تعالیٰ یہ فرمارہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ قرض حسنہ کی خدا کو ضرورت کیا ہے۔جو دینے والا ہے جو عطا کرنے والا ہے جو بڑھا کر دیتا ہے پھر بھی حساب نہیں چکا تا ، بند نہیں کرتا کھانہ کہتا ہے میرے علم میں بہت کچھ تمہارے لئے باقی ہے۔تو دراصل اس مضمون کو سمجھنے کے لئے قرآن کریم کے ان احکامات پر غور کرنا چاہئے جو سود کی مناہی سے تعلق رکھتے ہیں اور قرآن کریم نے سود کے نظام کی جڑیں اکھیڑ دی ہیں اور ہرگز مومن کو اجازت نہیں کہ اپنا روپیہ اس شرط پر کسی کو دے کہ وہ بڑھا کر واپس کرے۔اب اس کا متبادل ایک عام تجارت بھی ہو سکتا ہے لیکن ہر شخص کو تجارت کا فن نہیں آتا، ہر شخص اپنے روپے کا بہترین مصرف نہیں جانتا۔تو اگر اللہ تعالیٰ روپے کا ایسا مصرف بند فرما دے جس کے نتیجے میں آپ کو دکھائی دیتا ہے کہ وہ روپیہ بڑھ رہا ہے اور عملاً جن ہاتھوں میں وہ روپیہ بڑھتا ہے وہ اسے گھٹانا بھی جانتے ہیں اور نتیجہ ہمیشہ گھٹتا ہے، بڑھتا نہیں۔اس سودے سے آپ کو بچایا ہے خطر ناک ضیاع سے آپ کو بچا لیا یہ حکم دے کر کہ سودی کاروبار میں داخل نہ ہونا تم جتنا روپیہ بینک میں رکھو گے تم سمجھو گے کہ بڑھ رہا ہے مگر جب ایک عرصے کے بعد اصل حقیقتوں سے اس بڑھی ہوئی رقم کی قدر کا مقابلہ کرو گے تو ہمیشہ گھاٹا پاؤ گے۔آج ایک لاکھ روپیہ بینک میں رکھاتے ہیں آج ایک لاکھ روپیہ کا مکان بھی خرید سکتے ہیں اور جو مختلف قسم کی مصنوعات ہیں یا ایگریکلچر کی Production ،زراعتی جو بھی پھل اور سبزیاں اور گندم اور جو کچھ بھی زراعت میں پیدا ہوتا ہے میرا مطلب یہ ہے زراعتی پیداوار اس کو بھی خرید کے دیکھ سکتے ہیں کہ ایک لاکھ میں کتنا آتا ہے چھ سال میں جب آپ کا روپیہ دگنا ہو چکا ہوگا جو بینک میں پڑا پڑا دگنا ہوا ہے تو وہی مکان خریدنے کی کوشش کریں جو چھ سال پہلے آپ ایک لاکھ میں خرید سکتے