خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 859
خطبات طاہر جلد 15 859 خطبہ جمعہ 8 نومبر 1996ء جماعت کی مالی قربانی کے نتیجے میں خدا تعالیٰ نے ساری جماعت پر جو فضل نازل فرمائے وہ حیرت انگیز ہیں ( خطبه جمعه فرموده 8 رنومبر 1996ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کی : مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَهُ وَلَةٌ أَجْرُ كَرِيمٌ يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ بُشْرُ يكُمُ الْيَوْمَ جَنَّتٌ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ خَلِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ پھر فرمایا : (الحديد: 13،12) قرآن کریم کی جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے یہ آج کے خطبہ کی تمہید بنیں گی کیونکہ آج تحریک جدید کی مالی قربانی سے متعلق خطبہ دینا ہے اور نئے سال کا آغاز کرنا ہے۔مالی قربانی کی روح کو جس طرح قرآن کریم نے مختلف جگہوں پر پیش فرمایا ہے ان میں سے ایک یہ آیت ہے جو ایک نئے عجیب انداز میں قرآن کریم کا مالی قربانی کا فلسفہ پیش فرماتی ہے اور دراصل یہ فلسفہ ایک دنیاوی فلسفے کے مقابلے پر رکھا گیا ہے۔عام طور پر ان آیات کا ترجمہ تو کیا جاتا ہے مگر جن مضامین سے ان کا نقابل ہے ان کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔