خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 856 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 856

خطبات طاہر جلد 15 856 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء میں بارہا جماعت کو متنبہ کر چکا ہوں اب پھر کرتا ہوں آئندہ بھی کرتا رہوں گا کیونکہ اس کی ضرورت بہت ہے، اپنی سوچوں میں پہلے بل نکالیں اور اپنی ذات سے سیدھے ہو جائیں، پھر آپ کو پتا چلے گا کہ اصلاح نفس ہوتی کیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔يَآيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا۔اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اس کا نتیجہ یہ ہے قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا سچی بات نہیں، سیدھی بات کہنے کے عادی بن جاؤ۔صاف ستھری سیدھی بات، اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، فرمایا اللہ وعدہ فرماتا ہے۔يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ تم سے تو اپنے اعمال کی اصلاح نہیں ہوتی اگر تم قول سدید کو پکڑ لو تو خدا وعدہ کرتا ہے کہ میں تمہارے اعمال کی اصلاح کروں گا اور یہ جو وعدہ ہے یہ قانون کی صورت میں بھی جاری ہے اور ایک بالا رادہ فعل کی صورت میں بھی رونما ہوتا ہے۔قانون فطرت سید ھے لوگوں کو ہمیشہ اصلاح کے رستے پر ڈال دیتا ہے جو صاف اور سیدھی بات کرنے کے عادی ہوں جو اپنی آنکھ سے بھی اپنی برائیوں کو نہ چھپائیں اور اپنی کوئی ایسی شخصیت غیر پر ظاہر نہ کریں جس کے وہ مالک نہیں ہیں۔اس کا اور بعض کمزوریوں پر پردے ڈالنے کا مضمون الگ الگ ہے وہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کسی کی کمزوری کو اچھالنا اور ظاہر کر نا قرآن اس کو فحشاء کہتا ہے۔پس اس فرق کو سمجھیں۔بعض لوگ سمجھتے ہیں اچھا قول سدید ہے تو عورتیں بعض کہتی ہیں ہم نے ساری عمر خاوند کے گھر جانے سے پہلے جو بدیاں کی تھیں ہمارا فرض ہے خاوند کو بتادیں اور اس فرض کے نتیجے میں ان کی زندگیاں برباد اور خاوندوں کی زندگیاں برباد۔جو بات کسی کو پوچھنے کا حق نہیں ہے عجیب خدا نے عدل قائم فرمایا ہے وہ تمہیں بتانے کا بھی حق نہیں ہے۔وہ اندرونی معاملات جن میں خدا تعالیٰ نے دوسرے کو کریدنے کی اجازت نہیں دی تجسس کی اجازت نہیں ، وہاں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر تم سچائی کے نام پر ان کو خود بیان کرو گے تو یہ بے حیائی ہوگی اور اس کی سزا پاؤ گے، ایک بڑا جرم ہے۔تو یہ میں بار بار غلط فہمی دور کرتا ہوں اس کو اچھی طرح سمجھ لیں۔بالا رادہ اپنی اس شخصیت کو دنیا پر ظاہر کرنا جو شخصیت نہیں ہے، اپنے اس حسن کو حسن بنا کر دکھانا جو حسن نہیں تھا ، بالا رادہ فریب کے ساتھ اپنی کمزوریوں پر پردے ڈالنا جھوٹ کے ذریعے، یہ چیزیں ہیں جو قول سدید کے خلاف ہیں اور