خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 852 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 852

خطبات طاہر جلد 15 852 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء ہو جاتے ہیں اگر پانچ ہزار یا پانچ لاکھ بچے MTA پر دکھائے جائیں تو چونکہ اس رجحان میں مولویت ہے کہ دکھاوا ہو، اتنے مولوی تو آپ برداشت کر ہی نہیں سکتے ، MTA بند ہو جائے گی۔تو MTA کے ساتھ جہاں فوائد ہیں وہاں نقصانات بھی ہیں اور نقصانات کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس میں دکھاوا پیدا ہو جاتا ہے اور جہاں دکھاوا دین کے بنیادی فرائض پر اثر انداز ہو جائے وہاں شرک ہو جاتا ہے۔پس MTA کی ٹیمیں اگر کام کر رہی ہیں، عصر کی اذان ہوئی ہے یا ظہر کی جو بھی نماز ہو اور مسجد میں ایک طرف بیٹھے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں جی ہم دین کا کام کر رہے ہیں اس لئے کوئی ضرورت نہیں وہاں جانے کی یہ تو سراسر شرک ہے اور نفس کا بہت بڑا دھوکہ ہے کہ دین کا کام کس لئے کر رہے ہو۔اس لئے کہ عبادت قائم کرو اور جو دین کا کام عبادت کی راہ میں حائل ہو اس کو دین کا کام کہہ کیسے سکتے ہو۔صرف جھوٹ ہے اور نفس کا دھوکہ ہے۔وہی بل فریب ہے نیتوں کا جو پتا نہیں لگنے دیتا کہ کیا اصل بات ہے۔تو قرآن کریم نے نہ صرف سچ پر زور دیا بلکہ قولًا سَدِيدًا پر زور دیا ہے اور یہاں لفظ سَدِيدًا خاص معنے رکھتا ہے۔جیسے میں نے بیان کیا جب ایک دشمن بھی کھلے تو سیدھا ہونا پڑتا ہے اس کو، فریبوں کا دور بلوں کا دور ہے اور جب سَدِيدًا ہو جائے تو پھر دھوکہ نہیں ہوسکتا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد رسول اللہ اللہ کی جماعت تو قول سدید کے لئے پیدا کی گئی ہے۔محض تمہارا یہ سمجھ لینا کہ تم سچ بولتے ہو اور کھلم کھلا جھوٹ نہیں بولتے یہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے کیونکہ تمہاری اصلاح کے تقاضے بہت بلند ہیں۔اگر محمد رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چلنا ہے اور ان سے فیض پانا ہے تو قول سدید کولا ز ما ایک دائمی عادت کے طور پر اپنانا ہوگا اور قول سدید والا اس بات پر نظر رکھتا ہے کہ میری بات سے کس کو دھو کہ تو نہیں ہو گیا۔ایک بات بیان کر رہا ہے اس سے خواہ مخواہ اس کی نیکی کا رعب پڑ گیا اور اس کا مقصد یہ نہیں تھا۔جو قول سدید نہیں کرتا وہ خوش ہوگا کہ چلو الحمد للہ ساتھ یہ بھی مسئلہ طے ہوا لیکن جو قول سدید کا عادی ہے وہ متنبہ ہو جاتا ہے ، وہ کہتا ہے کہ دیکھو اس میں میرے نفس کی کوئی خوبی نہیں ہے دھو کہ نہ کھا جانا یہ اصل مسئلہ یوں ہے۔یہ وجہ ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک صورت پیدا ہوئی تو یہ عادت ہے جو رفتہ رفتہ دل کے اندر روشنی پیدا کر دیتی ہے اور اس روشنی کے بغیر آپ اپنے نفس کے بل اور فریب کو دیکھ نہیں سکتے۔صلى