خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 851 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 851

خطبات طاہر جلد 15 851 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء ہوتے اور وہ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ان جھاڑیوں کے بیچ میں سے اس کی چھوٹی سی آنکھ اس وقت آپ کو دکھائی نہیں دیتی لیکن کھلتا تب ہے جب حملہ کرنا ہو۔وہ ایک دم اپنے بل کو کھولتا ہے اور پھر آخری وار کر دیتا ہے۔تو اسی طرح نفس کا حال ہے۔وہ حملہ کرتا ہے اس وقت جب تک آپ کو دکھائی نہیں دے رہا ہوتا۔جب حملہ ہو جائے تو وہ حملہ آپ پر اثر انداز ہو جاتا ہے پھر اس کے چھپنے کی ضرورت نہیں۔اگر نفس کا حملہ آپ کو بے حیا بنا دے تو پھر اس کو چھپنے کی کیا ضرورت ہے پھر وہ بے حیائی کا سانپ کھل کے سامنے آجاتا ہے اور آپ اس کے ہم نوا ہو کر پھر آگے بڑھتے ہیں۔قَوْلًا سَدِيدًا کے اوپر قرآن کریم نے جو زور دیا ہے یہ ہمارے سب نیک کاموں پر حاوی ہے اور MTA بھی اس سے مستقلی نہیں ہے۔MTA ایک نیک کوشش ہے مگر اس کوشش میں حصہ لینے والے ہمیشہ اس معاملے میں خبر دار رہنے چاہئیں کہ ہم جو کوشش کرتے ہیں کیا واقعہ اللہ کی خاطر ہے یا اس میں نفس کا دکھا وا آ گیا ہے اور نفس کے دکھاوے کے MTA میں زیادہ امکانات ہیں بہ نسبت دوسری کوششوں کے۔کیونکہ ایک بچہ اپنی آواز کو MTA کے ذریعے ساری دنیا تک پہنچا دیتا ہے اور دکھائی بھی دے رہا ہوتا ہے اس لئے اتنا شوق پیدا ہو گیا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بچے کی تصویر ہے اور یہ اس نے خط لکھا ہوا ہے آپ کے نام، اس تصویر کے ساتھ اس خط کو MTA پر پڑھ کے سنائیں۔اب اس میں نیکی کون سی ہے۔صرف جماعت کو جواللہ تعالیٰ نے ایک عالمی مواصلات کا ایک عظیم الشان رعب عطافرمایا ہے اور توفیق عطا فرمائی ہے اس سے غلط استفادے کے لئے ایک رجحان ہے یعنی اس کی نیت میں۔اس سے آپ یہ نہیں کہہ سکتے گناہ شامل ہے مگر وہ سرزمین جہاں گناہ پلتے ہیں اسی سرزمین سے یہ خواہش اٹھی ہے۔کیا مطلب ہے؟ ساری دنیا میں جماعت اتنی قربانیاں دے رہی ہے اتنا پیسہ قربان کر رہی ہے وقت قربان کر رہی ہے کہ ایک عورت کا بچہ وہاں دکھا دیا جائے اور اس کا مقصد پورا ہو جائے۔ساری عورتوں کے بچے دکھا دیئے جائیں تو لوگ MTA دیکھنا ہی بند کر دیں گے کیونکہ ایسی تصویروں کی کثرت جن میں ذاتی کوئی دلچسپی نہ ہو وہ لوگوں کو متنفر کر دیتی ہے۔اب آپ سب لوگ لندن والے ”جنگ“ پڑھتے ہیں اکثر اور ایک صفحہ اوپر سے نیچے تک مولویوں کی تصویروں سے کالا سیاہ ہوا ہوتا ہے کبھی آپ نے ایک ایک کو دیکھا ہے غور سے؟ سرسری نظر ڈالتے ہیں اور آگے گزر جاتے ہیں تو آپ یہ پچاس مولویوں سے تو اتنا بیزار