خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 850 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 850

خطبات طاہر جلد 15 850 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء اس میں بنیادی طور پر یہی مقصد پیش نظر ہے کہ دیکھو سانپ بل والا جانور ہے اور چھپ کر بل دے کر بیٹھتا ہے، اپنے جسم کو سکیٹر کر جب حملہ کرتا ہے تو جس پر حملہ ہوتا ہے اس کو پتا بھی نہیں لگتا کہ کہاں سے حملہ ہوا اور کیوں ہوا۔اچانک ان بلوں میں لیٹی ہوئی چیز کی طرف سے ایک بڑا سخت حملہ ہوتا ہے اور پیشتر اس کے کہ انسان کو خبر ہو وہ ڈسا جاتا ہے اور زہر اپنا اثر دکھا دیتا ہے لیکن سانپ ہی کے اندر ایک اور بات بھی ہے جب یہ کھل کر حملہ کرتا ہے تو سیدھا ہو جاتا ہے اور کوئی بل نہیں رہتا پھر۔تو بل دینا چھپانے کے مترادف ہے۔بل فریب ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔میں نے خود دیکھا ہے سانپ کو حملہ آور، وہ یوں لگتا تھا جیسے دم کے کنارے پر کھڑا ہو گیا ہے ، حیرت ہوتی تھی دیکھ کر۔ایک دفعہ غلطی سے ایک پتھر کے گرد لپیٹے ہوئے بہت بڑے سانپ کو میں نے درخت کی جڑ سمجھ لیا اور جڑ سمجھ کے وہ چونکہ اچھی خوبصورت دکھائی دے رہی تھی میں نے کہا اس کو کھینچتا ہوں اس کی سوٹی بنائیں گے اور جب ہاتھ ڈال کے کھینچا ہے تو سانپ کھڑا ہوا ہے اتنا اونچا کہ میرے قد سے دگنا تگنا اونچا تھا اور لگتا تھا بالکل دم کے کنارے پر کھڑا ہے۔حیرت تھی کہ یہ نرم لوچ والا جسم اس طرح سیدھا کیسے ہوسکتا ہے مگر چونکہ کھل کر اس نے حملہ کرنا تھا، اس وقت اس کو بلوں کی ضرورت نہیں تھی جتنے کو برے حملہ کرتے ہیں وہ یوں کھڑے ہو جاتے ہیں اور کھڑے ہو کر سامنے سے حملہ آور ہوتے ہیں۔کمینے دشمن کو بھی جب آپ چھیڑیں ، جب انہیں مجبور کریں کہ جو کچھ ہو ظاہر کرو تو پھر جب وہ کھل کر حملہ کرتے ہیں تو تب آپ بعض دفعہ حیران رہ جاتے ہیں کہ اس بد بخت میں اتناز ہر چھپا ہوا تھا۔اس نے تو اپنے بلوں میں ہمیں پتانہیں لگنے دیا، نرم لوچ والا جسم ، بل کھایا ہوا ، دیکھنے میں خوبصورت ، جو درخت کی جڑ تھی وہ تو زہریلا سانپ نکلا۔تو انسانی فطرت میں جو بل دینے کا مضمون ہے یہ اس کی اصلاح کا سب سے بڑا دشمن ہے اور اسی لئے شیطان کو انسان کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا گیا۔اس کے بلوں میں جو فریب کا پہلو ہے اس طرح حملہ کرتا ہے کہ دکھائی نہیں دیتا اور اگر اس کو کھولو گے تو پھر وہ کھل کر سامنے آئے گا پھر دو بدو لڑائی ہوگی پھر وہ دشمن اگر مارا گیا تو پھر ہمیشہ کے لئے مارا جائے گا۔تو اپنے نفس کو اس شیطان کی طرح سمجھیں جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ آپ کی رگوں میں دوڑ رہا ہے اور وہ کیسے دوڑ رہا ہے قرآن فرماتا ہے تم اس کو دیکھ نہیں رہے وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔دیکھیں بالکل سانپ والی کیفیت جو چھپ کے بیٹھا ہوا ہے آپ اسے دیکھ بھی نہیں رہے