خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 848
خطبات طاہر جلد 15 848 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء دیں، ہم یہ خدا سے عہد کر کے واپس جارہے ہیں تو یہ برکت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے MTA کی وجہ سے ہمیں نصیب ہوئی۔دور دور جنگلوں میں بھی اس کو پھیلا دیا گیا ہے۔تو یورپ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو نو جوان نسلوں کے سنبھالنے کا انتظام ہوا ہے اس میں MTA نے بہت گہرا کام دکھایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تربیت میں یہ ایک بہت ہی مفید چیز ثابت ہوئی ہے لیکن اس کے علاوہ ایک اور بڑا فائدہ ان لوگوں میں یہ ہے کہ کثرت سے میں نے بچوں کو MTA کے کاموں میں مصروف دیکھا ہے۔جس نے ایک نغمہ پڑھنا ہے وہ اس کی تیاری بھی کرتا ہے۔وہ جو پہلے زیادہ مسجد میں نہیں آتا تھا وہ اب سٹوڈیو میں اپنا نغمہ تیار کرنے کی خاطر پہنچتا ہے اور پھر ساری خدمتیں ، چونکہ ایک بھی پروفیشنل ہم نے ملازم نہیں رکھا ہوا، سب طوعی ہیں اس لئے کثرت کے ساتھ نو جوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے اپنے دائرے میں ایک دوسرے سے ملے جلے بغیر تا کہ ایک دوسرے کی عزت کی اقدار کی حفاظت ہو سکے وہ اپنی اپنی ٹیموں میں کام کر رہے ہیں اور اتنا خوش ہیں کہ درخواستیں آتی تھیں ہر جگہ کہ ہمیں بھی شامل کیا جائے ، ہمیں بھی شامل کیا جائے۔ایک بھی درخواست یہ نہیں آئی کہ اتنا بوجھ ڈال دیا آپ نے ہمیں واپس کر دیں۔اور پھر اللہ کی شان یہ ہے کہ جو بھی MTA کے کاموں میں آگے ہیں تعلیم میں سب سے اچھے نتائج ان کے ہیں اور حیرت انگیز طور پر ایسے نتائج میرے سامنے رکھے گئے کہ نارو بیجین زبان میں سارے علاقے میں وہ پاکستان سے آئے ہوئے احمدی اول آگئے اور نارو تکین بچے پیچھے رہ گئے۔تو یہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے انعامات کے سلسلے ہوتے ہیں یہ مربوط ہوتے ہیں، ان کے فوائد کسی ایک جہت میں نہیں ہوتے۔صرف عالمی نہیں بلکہ اندرونی طور پر ان کے اندر بہت سی برکت کی شاخیں پھوٹتی رہتی ہیں اور یہ زندگی کی علامت ہے۔زندگی اور موت میں یہی فرق ہے۔موت پھوٹتی نہیں ہے۔اس کی شاخیں نہیں بنتیں۔زندگی شاخیں بناتی ہے اور نشو و نما پاتی ہے پھر اگر زہر یلے درخت ہوں تو وہ بھی کرتے ہیں ایسا زور مارتے ہیں اور جو کلمہ طیبہ ہو اس کا شجر بھی خوب پھوٹتا ہے، پھولتا ہے، پھلتا ہے۔تو جماعت کو اللہ تعالیٰ نے MTA کے ذریعے کثرت سے ایسے نوجوان عطا کر دیئے ہیں کہ MTA کی ایک پھولنے پھلنے والی سرسبز شاخ بن گئے ہیں اور ان کاموں میں ملوث ہونے کی وجہ