خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 839 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 839

خطبات طاہر جلد 15 839 خطبه جمعه 25 اکتوبر 1996ء ہوں وہ بڑی مغفرت والا خدا ہے اور بغیر گناہوں کی بخشش کے تمہیں اس کی لا س کی لقاء نصیب نہیں ہو سکتی۔ تم اس لقاء سے محروم رہو گے اگر پہلے بخشش نہیں کراؤ گے ۔ کتنے گہرے راز کی بات بتائی اور خدا سے متعارف ہونے والا انسان ہی ہے جو یہ راز بتا سکتا ہے۔ یہ سفر کی باریکیاں محض اس بات سے تو نہیں مل سکتیں کہ انسان نے سوچا ، غور کیا ، خدا کی قدرت کے نظارے دیکھے اور ان سے مرعوب ہوا، ان کے حسن سے وہ گھائل ہو گیا ، خدا کی ہستی اور اس کے حسن کا قائل ہو گیا یہ ساری چیزیں سوچوں کی باتیں صلى الله صلى الله ہیں بہت اچھی لگتی ہیں مگر معرفت کے راز نہیں ہیں۔ معرفت کا راز وہی ہے جو خدا نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعے ہمیں سمجھایا کہ دیکھو میں مغفرت کرنے والا ہوں جو تمہاری زندگی گزرگئی ہے کوئی نہیں جانتا کہ ساری گزر گئی ہے یا کچھ باقی ہے۔ ایک بچہ بھی نہیں جانتا کہ میری کتنی زندگی باقی ہے، کتنی گزر گئی ہے اور زندگی کا ہر حصہ جو گزرا ہوا ہے وہ بہت سی کوتاہیوں کا شکار ہے۔ بچوں کی دیکھ بھال میں جو کوتا ہیاں ماں باپ سے ہو جاتی ہیں ان کا بھی نقصان بچوں کو پہنچ رہا ہوتا ہے۔ انسان اپنے فرائض منصبی سے جو کوتاہی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے جو دوسری طرف توجہ پھیرتا ہے یہ بھی اس کے دل پر زنگ لگانے والی چیزیں ہیں۔ تو آنحضرت ﷺ نے ایک غسل کا طریق بتایا اور وہی طریق ہے جو صحابہ کی زبان سے جاری ہوار بنا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا اے اللہ ہمیں غسل کی توفیق بخش۔ سارے گناہوں کے داغ مٹ جائیں ۔ وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَّاتِنَا اور نہا دھو کر جب آپ بعد میں باہر نکا بعد میں باہر نکلیں تب بھی آپ کے جسم کی وہ کمزوریاں ، وہ بھیانک داغ جو جسم کا حصہ بن چکے ہیں وہ دھونے سے دور نہیں ہوا کرتے۔ وہ سیات ہیں جو ہمیشہ آپ کو کمزوریوں میں پھر بھی مبتلا کر سکتی ہیں۔ ایک آدمی لنگڑا ہے، ایک آدمی کا نا ہے ایک آدمی کو کوئی اور سوچ کی طاقت نہیں ہے یہ اس کی سیات ہیں۔ روحانی دنیا میں انہی کو سیاتِ کہا جائے گا۔ فرمایا یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ سمجھایا کہ پھر یہ دعا کرنا یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان سے یہ پیغام دیا ، یہ دعا کرو۔ اے خدا ! اب ہماری کمزوریاں دور فرمادے۔ صلى الله اور آخری بات جو مانگی گئی ہے وہ میں آپ کو بتاتا ہوں اس کو مانگے بغیر ناروے کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی ۔ جب تک یہاں جماعت احمدیہ کا بوڑھا، بچہ، ہر مرد اور ہر عورت جب تک وہ زندگی حاصل نہ کر لیں جس زندگی کا ان آیات میں ذکر ہے اس وقت تک وہ زندگی کا کوئی پیغام ناروے کو نہیں دے سکتے۔ کوئی زندگی بخش رستہ اختیار نہیں کر سکتے جس سے اس مردہ ملک کو یا نیم مردہ