خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 835 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 835

خطبات طاہر جلد 15 835 خطبہ جمعہ 25 اکتوبر 1996ء مائل ہوتی ہے۔اچانک انسان ایک اور احساس کی دنیا میں آنکھیں کھولتا ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ میں عالم کیا ہوں اصل عالم تو وہ ہے جو ساری کائنات پر اپنے علم کے ذریعے اپنے غلبہ کو کامل کئے ہوئے ہے وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ ( البقر : 256) اس کے علم کی کرسی ساری کائنات پر مسلط ہے زمین پر بھی اور آسمان پر بھی اور جہاں تک انسان کا تعلق ہے یہی آیت کرسی بتاتی ہے وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْ مِنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاءَ ان کا علم تو اتنا بھی نہیں ہے کہ ایک چھوٹے سے چھوٹے ذرے پر احاطہ کر سکیں اتنی ہی توفیق ملتی ہے جتنی خدا اجازت دیتا ہے اس سے زیادہ اب ان کے علم کو آگے بڑھنے کی توفیق نہیں ملتی تو پھر ہم کیسے عالم اور اس عالم کی بناء ہم پر کیسے ہوگئی۔جہاں تک مادی عالم کا تعلق ہے اس کی بناء علم پر ہے اس بات پر تو مفکرین سارے متفق ہیں کہ اگر علم نہ ہو تو گویا جہان غائب ہو گیا مگر ہمارے نہ ہونے سے تو اس جہان کو کچھ فرق نہیں پڑتا۔اگر غائب ہوگا تو معمولی سا ہوگا اور وہ وقت جو لا متناہی ہے جس کو ہم ازل بھی کہتے ہیں اور ابد بھی جس کا نہ ماضی میں کوئی کنارہ ہے نہ مستقبل میں، اس وقت میں ہماری سوچ کی کیا حیثیت ہے۔وہ تو ساری کائنات میں کسی جگہ ایک باریک سا نقطہ بھی ڈال دیں تو وہ کائنات اس نقطے کے مقابل پر زیادہ عظیم ہے جتنے ازل اور ابد ہمارے سوچ کے نقطہ سے عظیم تر ہیں کیونکہ ازل میں اور ابد میں یہ خصوصیت ہے کہ وہ ہر چیز کو سکیڑتی چلی جاتی ہے سمیٹتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ چیز نظروں سے غائب ہو جاتی ہے تو عالم وہی ہے جو اللہ ہے۔پس سورہ فاتحہ نے دیکھیں کیسا عظیم الشان علم و معرفت کا جہان ہمارے سامنے کھول دیا۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ تو اس کے بعد اس سے بڑھ کر انکساری کا سبق انسان کو کیا مل سکتا ہے کہ عالمین تو خدا سے قائم ہے۔ان کا ذرہ ذرہ ، ان کے باریک تر راز بھی اللہ پر روشن ہیں جو وہ بنانے والا ہے اور اس نے جو ہمیں بنا دیا تو ہمارے اندر بھی ایک عالمین بنا دیا ہے۔اس ساری کائنات کا خلاصہ انسان ہے اور اس خلاصہ کو وہ عظمت بخشی جس کے مقابل پر ساری کائنات کی کوئی حیثیت نہیں رکھی۔آنحضرت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: لولاک لما خلقت الافلاک (موضوعات كبرى حرف لام روح المعانی جلد اول صفحه 70) یہ افلاک تو تیرے بنانے کے لئے سیڑھی تھے ، ایک ذریعہ تھے۔اگر تجھے نہ بنانا ہوتا تو اس کا ئنات کو آغا ز ہی سے پیدا نہ کیا جاتا۔کوئی ضرورت