خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 834
خطبات طاہر جلد 15 834 خطبه جمعه 25 اکتوبر 1996ء پانیوں میں ان کی زندگی کی بناء رکھ دی گئی ہے اور وہ روز اس یقین کے ساتھ جاگتی ہیں کہ ایک رَبُّ العلمین ہے جو ساری کائنات کا رب ہے اور ہمارے پالنے کے لئے اس نے سامان کر رکھے ہیں۔وہ بھوکی نہیں مرسکتیں ورنہ انسان سوچے کہ اوپر سے پانی میں دیکھے تو اس کی سطح کے Reflection کے سوا کچھ بھی دکھائی نہیں دے گا۔کہاں یہ کہ وہ مچھلی پر جھپٹے اور ایسے نشانے کے ساتھ جھپٹے کہ مچھلی عین اس کے پنجے میں آئے اور اسے وہ لے کے اڑ جائے اور ہر روز اس تو کل کے ساتھ ہر جانور جاگتا ہے کہ میرا رزق میرے خدا نے مہیا کر رکھا ہے اور رزق لینے کی اور پکڑنے کی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔اب کوؤں کو صلاحیت نہیں، چیلوں کو یہ صلاحیت نہیں ، لاکھوں کروڑوں ،اربوں جانور ہیں جن کو یہ صلاحیت نہیں کہ سمندر کے پانی یا جھیلوں کے پانی میں تیرتی ہوئی مچھلیوں کو دیکھ بھی سکیں اور پکڑ بھی سکیں۔پس قرآن کریم فرماتا ہے۔كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اهْدَى سَبِيلًا (بنی اسرائیل : 85 ) کہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کی ایک شاکلت پہ پیدا کیا ہے اور اس کی شاکلت ، جس طرح اس کو ڈھالا ہے، جس شکل میں ڈھالا گیا ہے اس میں آپ کوئی تبدیلی نہیں کر سکتے۔اگر کریں گے تو وہ چیز زندہ نہیں رہ سکتی۔ہر چیز اپنی ذات میں کامل اور مکمل ہے۔پس دیکھو اس Seagull کو کہ کس طرح خدا تعالیٰ کے تو کل پر اٹھتی اور تو کل پر سوتی ہے اور کبھی اللہ تعالیٰ نے اس کے تو کل کو نا کام نہیں کیا، نامراد نہیں کیا۔اس مضمون کی طرف انسان کی توجہ پھیر تے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو کتنے ہی ایسے جاندار ہیں جن کا رزق تم پر نہیں ہے اللہ پر ہے۔اللہ نے اس کے مستقر بھی اس کو بتا دیئے ہیں اور مستودع بھی بتا دیئے ہیں۔اللہ نے اسے سمجھا دیا ہے کہ کن علاقوں میں اس نے لوٹ لوٹ کر آنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے بتا دیا ہے کہ کن جگہوں پر عارضی ٹھکانے کرنے ہیں۔پس وہ بے شمار جانور جو گرمیوں میں یہاں دکھائی دیتے ہیں اور سردیوں میں غائب ہو جاتے ہیں کبھی غور تو کریں کہ یہ آیات کریمہ آپ کو کیا سمجھا رہی ہے۔ہر ایک کا ایک مستودع ہے، ایک مستقر ہے اور اسے پتا ہے کہ کتنی دیر میں کہاں ٹھہروں اور کس وقت میں وہاں سے روانہ ہو جاؤں۔تو یہ وہ مضمون ہے رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ َهذَا بَاطِلًا کا جو انسان جتنا غور کرتا چلا جاتا ہے اس کی طبیعت اپنی طرف لا ز ما مائل ہونی چاہئے اور جن اولوالالباب کا ذکر کیا ہے ان کی طرف ضرور