خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 833
خطبات طاہر جلد 15 833 خطبہ جمعہ 25 اکتوبر 1996ء سارے سامان یہاں موجود ہیں۔کون سی ذات ہے جس نے ان کو سمجھایا اور کیسے ان کے چھوٹے چھوٹے دماغوں میں بلکہ ایسے جانوروں میں بھی جن کا دماغ ابھی پیدا نہیں ہوا ان کے مقصد کی باتیں اس طرح لکھ دی گئیں جیسے کمپیوٹر کسی چیز کولکھ دیتا اور صرف پڑھنے والے پڑھ سکتے ہیں۔مگر اس کمپیوٹر کے لئے کوئی جگہ ہونی چاہئے جہاں وہ لکھا جائے۔یہ جو کمپیوٹر خدا تعالیٰ نے بنایا ہے وہ دماغ سے تعلق رکھتا ہے اور دنیا کے سارے ماہرین حیاتیات جو ہیں کہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ان گنت تعداد ایسے کیڑے مکوڑوں بلکہ اس سے پہلے کی حالتوں کی ہے جب وہ کیڑے مکوڑے کہلانے کے مستحق نہیں ہیں ، جن کے اندر دماغ کا کوئی وجود نہیں اور احساس کے کوئی ریشے نہیں ہیں، پھر بھی ان سب کو پتا ہے کہ ہم نے کہاں جانا ہے، کیا کرنا ہے ، کیا کھانا ہے ، کہاں سے کھانا ، کہاں ہماری زندگی محفوظ ہے، کہاں ہماری زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔یہاں پہنچ کر وہ مزید سوچنا چھوڑ دیتے ہیں تسلیم کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کیا ہے مگر یہ علم ہے کہ ہو یہی رہا ہے۔تو جس انسان کی سوچ اتنی محدود ہے کہ ایک کیڑے کی جو احساس کی طاقت ہے اس کو بھی نہیں سمجھ سکتا نہیں جانتا کہ وہ کیسے کام کر رہی ہے اس سے جو عالم جا گا ہے اس کی حیثیت بھی کیا ہے۔ایک سرسری سا عالم جا گا ہے جو اصل عالم کے مقابل پر ایک پر پشہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتا۔ایک مچھر کے پر سے کم اس کی حیثیت ہے جو انسان کو ہے۔پس کتنی سی کائنات اس نے جگادی ہے۔اکثر کائنات اسی طرح پڑی ہے جو اس کے لئے علم سے باہر ہے اور پھر فلسفیوں کا یہ کہنا کہ ہمارے وجود سے کائنات ہے ہم سوچیں تو یہ کائنات بنتی ہے، نہ سوچیں تو کچھ بھی نہ رہے اس کا جواب قرآن کریم یہ دیتا ہے کہ اصل سوچنے والا تو خالق ہے۔رَبُّ الْعَلَمِین تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا ہی نہیں بلکہ ان کو پالنے والا ہے اور علم کی انتہا کے بغیر پالناممکن نہیں۔جتنے بھی جاندار دنیا میں زندہ ہیں ان کو پالنے کے گہرے علم کی ضرورت ہے کہ ان کو کس چیز کی ضرورت ہے، کتنی ضرورت ہے، کیا ان کو خدا ہوشیاریاں عطا کرے تو بعض ما حولوں میں زندہ رہ سکتے ہیں اور کیا نہ کرے تو وہ چل نہیں سکتے۔ایک ایسی جھیل پر جہاں ہم نے مچھلیوں کی بہت تلاش کی اور کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا میں نے بچوں کو وہSeagulls دکھا ئیں جو اڑ رہی تھیں اور نیچے اترتی تھیں اور کچھ لے کے نکل جاتی تھیں۔ناروے میں رہ کر کوئی انسان Seagulls پر بھی غور نہ کر سکے تو کتنی حیرت کی بات ہے۔کھلے