خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 832 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 832

خطبات طاہر جلد 15 832 خطبہ جمعہ 25 اکتوبر 1996ء حل آپ کے سامنے رکھا تھا جو اس مسئلے کو حل کرتا ہے جس تک فلسفیوں کی نظر نہیں گئی۔عالم اس ساری کائنات کو کہا گیا ہے اور عالم کی جگہ عالمین استعمال ہوا ہے یعنی مختلف وقتوں میں مختلف صورتوں میں مختلف دائروں میں یہ کائنات بٹی ہوئی ہے اس لئے عالمین ہے اور عالم کا مطلب ہے وہ چیز جس کا علم ہو۔اب دیکھیں قرآن کریم نے سورہ فاتحہ کی پہلی آیت میں بِسْمِ اللہ کے بعد الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ فرمایا کہ اللہ کی حمد کے گیت گاؤ سب حمد اسی کے لئے ہے جو تمام عالمین کا رب ہے۔اب اس پہلو سے جب آپ غور کریں تو پتا چلے گا کہ سارے انسان ، سارے سوچنے والے وجود کلیۂ مٹ جائیں تو عالمین اس لئے نہیں مٹیں گے کہ اللہ ہی ہے جو سب کو جانتا ہے اور ان کو معلوم کے دائرے سے آپ کبھی نکال ہی نہیں سکتے۔اس لئے اس فلسفے کا جوالجھنیں پیدا کرنے والا فلسفہ ہے جس میں ڈوب کر جس کو حل کرنے کی کوشش میں آج تک کوئی فلسفی کامیاب نہیں ہوسکا، یورپ نے بھی بڑا زور مارا ، بڑے بڑے اعلیٰ دماغ یہاں پیدا ہوئے کچھ اس طرف ہٹ گئے کچھ اس طرف ہٹ گئے مگر مسئلہ سمجھ نہیں آیا کہ واقعہ اس میں سچائی تو ہے کہ اگر سوچ نہ ہو تو یہ کا ئنات کیا ہے کچھ بھی نہیں گویا مٹ گئی گویا اس کا ئنات کا وجود ہماری سوچ کے ظاہر ہونے سے پیدا ہوا اور جب ہم سوچتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ درست نہیں۔ہم نہ بھی ہوتے تو کائنات رہتی لیکن کیسے پتا چلتا کہ کائنات ہے۔اس بحث میں ہزاروں سال سے لوگ الجھے ہوئے ہیں لیکن حل نہیں کر سکے۔قرآن کریم کی سورہ فاتحہ کی پہلی آیت نے اس مسئلے کو حل کر دیا۔فرمایا تم اپنے زاویہ نگاہ سے سوچتے ہو تم سمجھتے ہو تم ہی ہو جس کی سوچ کے نتیجہ میں ایک بیرونی چیز دکھائی دے رہی ہے اور اس کے وجود کو ثبات ملا ہے لیکن تمہاری سوچ جاتی کہاں ہے، کہاں تک جاسکتی ہے؟ زمین کی جو پنہائیاں ہیں ان تک بھی تمہاری سوچ نہیں پہنچتی۔تمہیں تو یہ بھی پتا نہیں کہ اس زمین کے اندر گہرائی تک کیا کچھ ہے اور بعد اس کے کہ سائنس دان ہمیشہ ترقی کرتے چلے جارہے ہیں اور اپنی جستجو کو آگے بڑھا رہے ہیں جیسا Mr۔David Attenborough کا میں نے ذکر کیا وہ جگہیں جو زندگی سے خالی دکھائی دیتی تھیں ان کو جب کھولا، کھودا اور ٹولا تو وہاں زندگی کا ایک جہان دکھائی دیا مگر یہ بھی صرف ایک سطحی علم ہے۔جو اس کے پس منظر ہے، اس کے پیچھے ہے ان کی خوراک کا نظام، کیسے ان کو عقل عطا کی گئی ، کیسے ہر جانور کو اپنی مرضی اپنے مقصد کے رستے بتائے گئے کہ تم ان پر چلو تو تمہاری بقا کے