خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 828
خطبات طاہر جلد 15 828 خطبہ جمعہ 25 اکتوبر 1996ء درخواست کی کہ اس شخص سے ملنے کا مجھے بہت شوق ہے۔میں کریدنا چاہتا ہوں کہ ان سب رازوں تک رسائی کے باوجود اس کا ذہن کیوں اس طرف منتقل نہیں ہوا کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ اے ہمارے رب تو نے یہ سب کچھ باطل پیدا نہیں کیا۔تو آپ کو خدا تعالیٰ نے ایسے ملک میں پیدا کیا ہے جہاں خدا کی صناعی کا حسن ظاہر و باہر ہے جہاں مٹی کرید کر نہیں دیکھنا پڑتا، جہاں سناٹوں میں ڈوب کر گہری نظر سے اردگرد کی مخلوق کو اچانک ،کوشش سے جاگتے ہوئے دیکھ کر پھر یہ خدا کی یادوں کا سفر نہیں کرنا پڑتا بلکہ یہاں تو اللہ کی یادیں آپ کے سامنے چاروں طرف آپ کو گھیرے ہوئے ہیں۔وہ حسین مناظر جو اس ملک میں ہیں وہ تو اپنے ہواؤں کے لطف کے لحاظ سے اندھوں کو بھی دکھائی دینے چاہئیں۔جو ہوا میں یہاں چلتی ہیں ان کا ایک عجب لطف ہے جس کے متعلق ساری دنیا کے ماہرین کہتے ہیں کہ ایسی شفاف ہوا، ایسی صحت افزا ہوا جیسی ناروے میں ہے دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہے۔چنانچہ یہاں انہوں نے کوڑھیوں کے لئے ایک تجربہ گاہ بنائی اور مجھے پہلے تو اچھا نہیں لگا یہ خیال، اتنے پاک، صاف ستھرے ملک کی ہوا کوڑھیوں کی سانسوں سے بیمار کرنے کی کوشش کی جائے مگر وہ جو تجربہ کرنا چاہتے تھے سائنس دانوں کا خیال تھا کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جس کے متعلق ہم یقین سے کہہ سکیں کہ ان تجربوں میں کوئی دوسری بیماری محل نہیں ہوگی سوائے ناروے کے اور کوڑھیوں پر تجربے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی جگہ نہیں تھی۔اللہ بہتر جانتا ہے وہ کہاں بنائے گئے ہیں لیکن سائنس دانوں کا یہ خیال تھا کہ وہ فضا کو مسموم نہیں کریں گے بلکہ ان کو کوڑھیوں کی شفا کے لئے خدا تعالیٰ کچھ اور نئے راز عطا کر دے گا جو پہلے معلوم نہیں تھے۔کہاں تک یہ درست ہے یہ الگ بحث ہے۔میں واپس اس مضمون کی طرف آتا ہوں کہ آپ کو تو خدا تعالیٰ نے اپنے ظاہر وباہر حسن کا نظارہ کرایا ہے جیسا کہ غالب کہتا ہے: جب وہ جمال دل فروز ، صورت مہر نیم روز آپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپائے کیوں؟ (دیوان غالب : 187) یعنی کائنات ساری خدا کے حسن کے پردے ہیں اور ان پردوں میں خدا کا حسن چھپا ہوا ہے مگر ہر دیکھنے والا دیکھ سکتا ہے اگر وہ گہری نظر سے ان پردوں کے پیچھے حسن کو تلاش کرنے کی