خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 826
خطبات طاہر جلد 15 826 خطبه جمعه 25 اکتوبر 1996ء کے سفر بھی یاد آئے ، بعض بنجر بیابان بھی آئے جہاں بعض دفعہ گھنٹوں بیٹھا رہا کرتا تھا اور اس بنجر میں بھی ایک ذاتی حسن تھا، ان ریگستانوں میں بھی ایک ذاتی حسن تھا جو دل و دماغ پر قبضہ کئے ہوئے تھا اور پھر جب آپ غور کا سفر شروع کریں تو گردو پیش بہت سی ایسی چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں جو پہلے دکھائی نہیں دیتی تھیں اور يَتَفَكَّرُونَ کا جو لفظ ہے اس نے مجھے یاد دلایا کہ بسا اوقات جب میں نے ان جذبوں میں ڈوب کر اپنے گردو پیش کی زمین پر نظر ڈالی تو وہاں عجیب عجیب چیزیں دکھائی دینے لگیں کچھ کیڑے، کچھ جانوروں کے چھوڑے ہوئے غار نما خلا یا غاریں تو نہیں کہہ سکتے مگر بھٹ کہتے ہیں غالبا، جانوروں کی وہ جگہیں جہاں وہ سر چھپانے کے لئے پناہ لیا کرتے ہیں ، پھر ایسے بل دکھائی دیئے جو بعض دفعہ سانپوں کی آماجگاہ بن جاتے ہیں، بعض دفعہ چوہوں کی ، بعض دفعہ اور جانور کھودتے ہیں کوئی دوسرے ان میں آکر پناہ لیتے ہیں۔پھر اردگرد وہ مخلوق دکھائی دینے لگی جو حیرت انگیز طور پر ہر ایک ان میں سے خدا تعالیٰ کے تخلیق کے کمال کی گواہ بنی ہوئی تھی۔وہاں کے مچھر، وہاں کی مکھیاں ، وہاں کے مختلف قسم کے پرندے اور چرندے اور جانور جو دوسرے جانوروں کا شکار کر کے پلتے ہیں ان سب کے وجود کے آثار وہاں دکھائی دینے لگے اور میں حیرت میں ڈوب گیا کہ یہ دیکھو یہ دنیا جو پہلے نظر نہیں آتی تھی اب پتا چلا کہ کوئی بھی زمین ایسی نہیں کوئی زمین کا ایسا چپہ نہیں ہے جہاں خدا تعالیٰ نے اپنی صناعی کے شاہکار کے نشان نہ چھوڑے ہوں۔وہاں ہی میں نے ایک چھوٹی سی صحرائی چڑیا دیکھی یعنی ایک معین واقعہ کی یاد آپ کو دلا رہا ہوں کوئی فرضی سیر نہیں کر رہا۔ایسے وقت کی سیر کر رہا ہوں جو میں نے واقعہ گزارا اور جو کچھ میں نے سوچا، جو کچھ میں نے دیکھا وہ اس آیت کے حوالے سے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب میں نے اس مضمون پر غور کیا کہ کیا ناروے ہی ایک ایسا ملک ہے جو خدا تعالیٰ کی حسن صنائی کی یاد دلانے والا ہے تو اس وقت میرے خیالات ان رستوں پہ چل پڑے اور سب سے پہلے مجھے عرب کے صحرا کا تصور آیا کہ سب سے زیادہ حسین انسان جس نے خدا کو سب سے زیادہ حسین صورت میں دیکھا ہے وہ تو عرب کے ریگستان میں پیدا ہوا تھا اس لئے یہ آیت ہر انسان کو مخاطب ہے اور اس شان سے مخاطب ہے کہ جس کے نتیجہ میں اگر آپ اس کی شان سے مرعوب ہوکر وہ تصورات کا سفر اختیار کریں جس کی طرف اس آیت نے اشارہ کیا ہے یعنی يَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ جو جہاں بھی