خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 824 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 824

خطبات طاہر جلد 15 824 خطبہ جمعہ 25 اکتوبر 1996ء آیات کا یعنی موسم اور حالات کے ادلنے بدلنے کا اور قدرت کے رازوں کا ذکر جو مومنوں پر کھولے جاتے ہیں ان آیات میں ملتا ہے ان کا ایک گہرا تعلق ناروے سے ہے اگر چہ دنیا کے ہر خطے سے ہے۔اس لئے ناروے میں آکر جتنا یہ آیات یاد آتی ہیں اتنا ہی دل میں تکلیف کا احساس بڑھتا ہے کہ ہم اس ملک کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکے اور جو اس ملک کا حق تھا جو اس ملک کے نمک کھانے کا حق تھا وہ ہم نے ادا نہیں کیا۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے اس سفر میں جو چند دن کے لئے آپ سے جدا ہوا تھا اور ناروے کے بعض حصوں کا سفر کیا تھا اس میں ان آیات نے میرے ذہن اور دماغ پر قبضہ کئے رکھا اور اب مجھے یہ خیال آیا کہ انہی آیات کے حوالے سے میں ان مسائل کا حل تلاش کروں جو مومن کے اندر صرف جذبات ہی کو حیرت انگیز طور پر ولولے عطا نہیں کرتیں بلکہ ذہن کو بھی تیز کرتی ہیں اور عقل کو بھی مسائل تک رسائی بخشتی ہیں۔سب سے پہلی بات کہ وہ کیا طریق اختیار کیا جائے جس سے جماعت کے اندر ایک ولولہ پیدا ہو جائے ، ایک ایسی لگن لگ جائے جس کے نتیجہ میں وہ اس ملک میں اسلام پھیلانے کا حق بہر حال ادا کریں اور کوئی رو کے بھی تو ان سے روکا نہ جائے۔انہی آیات میں موجود ہے کہ یہ طریق، یہ جذ بہ اور یہ توفیق عشق الہی کے بغیر مل نہیں سکتی کیونکہ جو نقشہ کھینچا گیا وہ یہ ہے کہ اِن فی خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ کہ زمین و آسمان کی پیدائش میں اور رات اور صبح کے اولنے بدلنے میں لایت لِأُولِي الألْبَابِ نشان تو بہت ہیں مگر عقل والوں کے لئے بکثرت نشان ہیں اور عظیم الشان نشان ہیں لیکن عقل والوں کی تعریف کیا فرمائی گئی ہے۔الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهِ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِم عقل والے تو وہ ہیں جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہو کر بھی اور لیٹے ہوئے بھی، بیٹھے ہوئے بھی وَعَلَى جُنُوبِهِمْ اور اپنے پہلوؤں پر بھی وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ اس محبت کے جذبے سے جب وہ زمین و آسمان کی پیدائش پر غور کرتے ہیں تو بے اختیار ان کے منہ سے یہ دعا نکلتی ہے۔رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کہ اے ہمارے رب تو نے یہ سب کچھ باطل پیدا نہیں کیا۔اتنا عظیم الشان کارخانہ ہے اتنے گہرے حکمت کے راز ہیں کہ ان پر نظر ڈال کر کوئی انسان یہ وہم بھی نہیں کر سکتا کہ یہ سب چیزیں از خود اور بے مقصد پیدا ہوئی ہیں اور ایک اندھی