خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 77

خطبات طاہر جلد 15 77 خطبہ جمعہ 26 جنوری 1996ء جائیں گی۔تو پہلی خوشخبری تو یہ ہے کہ وہ جو مستقل انتظام ہمارا، اس کو عالمی تو نہیں کہنا چاہئے اردو میں اس کا ترجمہ مشکل ہوگا لیکن ایسا ٹرانسپانڈر Transponder جو آدھی دنیا کو بیک وقت تمام سگنلز دے سکتا ہے اور بڑی صفائی کے ساتھ دے سکتا ہے وہ ٹرانسپا نڈر Transponder جس کی موجودہ طاقت جتنے بھی ٹرانسپانڈر رائج ہیں ان میں اوپر کی ، چوٹی کی طاقت ہے وہ لینے کی کوشش ہو رہی تھی تا کہ جو سرسری انتظام ہے تین چار مہینے کے لئے اس کی خامیوں سے بچا جاسکے۔جو سرسری انتظام ہے اس میں ہمیں دو ہیمی ، بیمز Hemi-Beams لینی پڑتی ہیں اور یہ جو میں کہ رہا ہوں اس کو گلوبل ہیم کہا جاتا ہے اگر چہ یہ آدھی دنیا کی بیم ہوتی ہے پوری دنیا کی نہیں۔مگر نصف کرہ ارض کے لئے یہ ہیم ہوتی ہے وہ مل نہیں رہی تھی۔اس کے اوپر بہت سے پہلے سے ہی ان کے تقاضے موجود تھے اور ایک ایسی بیم تھی جس کے متعلق خیال تھا کہ اگر ہمیں مل جائے تو ہماری ساری مشکلات کا ازالہ ہو جائے گا اور وہی گلوبل ہیم ہی تھی اور اس کی طاقت بھی زیادہ تھی صرف مشکل تھی کہ اس میں خرچ زیادہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ بہت قیمتی بیم ہے وہ۔مگر میں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے، پہلے بھی اللہ ہی پورے کر رہا ہے ہم کونسا اپنے زور بازو سے پیسے لا رہے ہیں انتظام ہو جائے گا لیکن لینی ضرور ہے۔کمپنی نے جواب دیا کہ لینی تو ضرور ہے مگر مشکل ہے کہ ایک آدمی نے پہلے سے ریز رو کرائی ہوئی ہے یا ایک کمپنی نے ریز رو کروائی ہوئی ہے اور ہمارا قانون یہ ہے کہ اگر تم نے ضرور لینی ہے تو اتنے پیسے پیشگی جمع کراؤ جو اس بہیم پر لگیں گے اور پھر پینتالیس دن انتظار کرو۔اگر اس پینتالیس دن کے عرصے میں اس نے اپناClaim کر دیا تو تمہارا کلیم ختم اور ہم اسے مجبور کریں گے کہ اب پیسے دے اور بیم سنبھالے۔آپ اندازہ کریں کہ وہ ایک ایک دن کتنا بھاری ہوگا، بہت دعائیں کرتے ہوئے وقت گزرا ، ہر روز یہی فکر تھی کہ خدا کرے آج نہ کہیں اس نے کہہ دیا ہو یہاں تک گزشتہ پیر پہلا روزہ تھاوہ آخری دن تھا اور بڑی مشکل سے روزہ کٹا ہے لیکن اللہ نے خوشخبری دی اور وہ دن پورا گز ر گیا اور اس کمپنی یا اس شخص کو توفیق نہ ملی کہ وہ اپنی ریز رو کی ہوئی ہیم کو سنبھال لے۔پس جونہی ہمیں اطلاع ملی اسی وقت کنٹریکٹ فائنلی سائن کر دیئے گئے ہیں۔اب یہ خوشخبری ہے سارے عالم احمدیت کو اور دوسری دنیا کو بھی کیونکہ وہ سب فیض اٹھارہے ہیں کہ بیچ میں جو خلا رہ گئے تھے اس عارضی انتظام میں مثلاً مشرق وسطی میں جو سعودی عرب کے بعض علاقے اور ابوظہبی وغیرہ وہاں موجودہ انتظام نہیں