خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 821 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 821

خطبات طاہر جلد 15 821 خطبہ جمعہ 18 را کتوبر 1996ء آج ہی ایک خط مجھے ملا ہے ایک ایسے شخص کا جو کسی ملک میں ہے میں اس کی نشاندہی نہیں کرنا چاہتا ، مجھے ملا تو پتا چلا کہ عمر کا ایک طویل عرصہ اب جو بڑھاپے کی عمر کو پہنچنے کے بعد اس کا دل واپس احمدیت کی طرف آیا ہے۔نہایت مخلص فدائی ماں باپ کی اولاد مگر دور ہٹ گئی تھی اور کوئی توجہ نہیں تھی۔واپس آیا ہے تو اس زور کے ساتھ ، اس اخلاص کے ساتھ ، اس احساس کے ساتھ کہ جو کچھ میں نے گنوایا ہے اس کو میں نے اب پورا کرنا ہے اور پوچھا کہ کیا ہوا تو کچھ سمجھ نہیں آتی۔دنیا کی تو کوئی دلیل چلتی نہیں وہاں، وہ دعا ہے جو ماں باپ کی ہے جوگھیر کر اور طرح کی تکمیل ناک میں ڈال کے لائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کی نکیل ہے وہ دعاؤں کی قبولیت کے نتیجہ میں دلوں کی پاک تبدیلیوں کی نکیل ہے۔تو آپ کو جب تک اپنے بیوی اور بچوں پر حقیقی دسترس نہیں ہوتی حکم کی نہیں بلکہ پیار کی Companionship کی جس میں سارا خاندان ایک ہی طرح کا ہو اور اکٹھے ہی ایک طرف چلیں یہ دوسری منزل ہے جس کی طرف میں آپ کو بلا رہا ہوں۔اس کو آپ سمجھ جائیں گے اور اس پر عمل کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی اولادوں میں بھی وہ پاک تبدیلی پیدا ہوگی اور آپ کی پاک تبدیلی میں مزید طاقت آئے گی۔ورنہ ایک خاوند جب اپنی بیوی کو یا اپنے بچوں کو اپنے سے ہٹے ہوئے رستوں پر چلتا دیکھتا ہے تو اس کی آگے بڑھنے کی طاقت میں بھی کمی آجایا کرتی ہے۔ایسا ہی ہے جیسے چڑھائی چڑھ رہا ہے اور بوجھ اٹھایا ہوا ہے تو بوجھ اٹھا کے کہاں کوئی تیز رفتاری سے بلندی کی منازل طے کر سکتا ہے۔ہلکے پھلکے قدم ہوں تو زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آدمی آگے بڑھتا ہے کہاں یہ کہ چار پانچ بیوی بچوں کا بوجھ کمر کے پیچھے لادا ہوا ان کو بھی گھسیٹ رہا ہے اوپر کی طرف ، آپ بھی چلنے کی کوشش کر رہے ہو تمہاری رفتار میں لازماً کمی آئے گی اور وہ کمی بعض دفعہ مہلک ثابت ہوتی ہے آخر تھک کر لوگ چھوڑ دیتے ہیں۔مگر جو طریقہ میں بتا رہا ہوں ایسے بچے ہوں جو آپ کے آگے آگے بھاگ رہے ہوں اور بعض بچے جب آپ پہاڑوں کے سفر کرتے ہیں تو جب ان کا دل چاہ رہا ہے کہ ہاں ہم بھی جائیں گے تو واقعہ وہ دوڑ دوڑ کے آگے نکلتے ہیں۔ماں باپ بعض دفعہ بلاتے ہیں کہ کہیں ٹھو کر نہ کھا جانا لیکن ان کی طبیعت میں ایسا جوش، ایسی بشاشت ہوتی ہے کہ رو کے نہیں رکھتے اور ماں باپ بجائے اس کے کہ ان کو کھینچ کر آگے لے کے جائیں گے ان کو تیز رفتاری کے خطرات سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر بچہ نہ مانے اور آپ اس کو گھسیٹ کے لے کے جائیں تو پھر دیکھیں کیا حال ہے۔جتنی