خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 822
خطبات طاہر جلد 15 822 خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 1996ء مرضی طاقت ہے وہ کہیں ٹھڈے مارے گا آپ کو ، کہیں شور مچائے گا ، کہیں آپ کے بال نوچے گا مصیبت میں مبتلا کر دے گا یہاں تک کہ آپ کہیں گے چلو دفع ہو نہیں جاتے کہ میں بھی نہیں جاتا تم بھی نہ جاؤ۔تو یہ وہ روز مرہ کے زندگی کے تجارب ہیں جو زندگی کے اہم مسائل کو سمجھنے میں ہمیں مدد دیتے ہیں۔پس ایسے ماحول پیدا کریں کہ آپ کے بچے آگے آگے بھا گیں اور واقعہ جب ایسے بچے آگے بھاگتے ہیں تو وہ ماں باپ جن میں اتنا تیز چلنے کی سکت نہیں ہوتی سچ مچ روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور مجھے پھر وہ بچے شکایتیں بھیجتے ہیں۔کہتے ہیں دیکھو ہمارے ماں باپ کو، ہم خدام کا یہ کام کرتے ہیں نیکی کا یہ کام کرتے ہیں ہماری اماں کہتی ہے کہ نہیں تمہیں اتنا کام نہیں کرنا، باپ کہتا ہے کہ نہیں اتنا وقت نہیں دینا تو آپ ہمارے ماں باپ کو سمجھائیں وہ ہمارے رستوں میں کیوں حائل ہو رہے ہیں۔تو جو منظر میں نے سیر و تفریح میں ، بچوں کے حال کا آپ کے سامنے رکھا روحانی دنیا میں بالکل وہی منظر ہے جو ہمیں دکھائی دیتا ہے۔جو بچے پھر دل کی مرضی سے اور دل کی گہرائی سے اپنے ماں باپ کے پیغام کے ساتھ ہو جائیں بسا اوقات وہ ماں باپ سے بھی آگے چھلانگیں مارتے ہوئے دوڑتے ہیں۔تو ایسی نسلیں پیدا کریں یہاں، وہ نسلیں کہ جب آپ آنکھیں بند کر لیں تو یقین ہو کہ وہ کبھی بھی ہمارے چلے ہوئے رستوں سے پیچھے نہیں نہیں گی ،کبھی بھی ان راہوں سے قدم نہیں روکیں گی جن راہوں پر ہم زندگی بھر ان کو چلانے کی کوشش کرتے رہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی حفاظت میں آجاتے ہیں۔یہ وہ نسلیں ہیں جو آپ کی اور آپ کے پیغام کی ہمیشہ حفاظت کرتی چلی آتی ہیں۔آپ کے مرنے کے بعد بھی ان کی نیکیوں کا اجر آپ کو پہنچتا رہے گا۔آپ کے مرنے کے بعد بھی ان کی دعائیں آپ کو پہنچتی رہیں گی اور اس طرح نسلاً بعد نسل یہاں ایک ایسا پاک تبدیلی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جو لازماً اس ملک کی تقدیر کو بدل کے رہے گا۔الله پس اللہ تعالیٰ آپ کو قرآن اور رسول ﷺ کے بتائے ہوئے رستوں پر اسی نہج پر چلنے کی توفیق بخشے جس نہج پر خدا کے پاک لوگ چلتے رہے اور جس کی طرف قرآن کریم نے ہمیں سمجھایا کہ اھدِنَا الصَّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا مانگا کرو صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ ان لوگوں کا رستہ جن پر تو نے انعام فرمایا۔(آمین)