خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 819
خطبات طاہر جلد 15 819 خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 1996ء نہیں ہوا کرتے پھر وہ پیچھے نہیں ہٹا کرتے لیکن قرآن کریم نے یہ بات ضرور فرمائی ہے کہ پھر بعض دفعہ ان کے وارث ایسے خلف ہو جاتے ہیں ایسی نسلیں ہو جاتی ہیں جو تبدیل ہو جاتی ہیں۔تو صاف پتا چلا کہ قرآن سچا ہے۔یہ لوگ جو ابتداء میں احمدی ہوئے انہوں نے قربانیاں دیں اور قرب الہی حاصل کیا وہ نہیں پیچھے ہے، اولادیں چلی گئیں۔مگر اولادوں کے جانے کی وجہ ہونی چاہئے۔اگر باپ کا عمل نیک تھا تو کیوں اولا دیں اثر کے نیچے نہیں آئیں اور کیوں دور ہٹ گئیں۔جب بھی میں نے جائزہ لیا بلا شبہ یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوئی کہ ان باپوں نے اپنی بیویوں کے اندر پاک تبدیلی پیدا نہیں کی اور یہ سمجھتے رہے کہ بیویاں اس زمانے میں تو زیادہ ہی مطیع ہوا کرتی تھیں اب تو نئی نسل کی بیویاں اور طرح کی ہوگئی ہیں مگر اُس زمانہ میں بیویاں بہت مطیع ہوا کرتی تھیں ظاہری طور پر ، اور اندر کھاتے بیٹھ کے اور باتیں کیا کرتی تھیں کیونکہ وہ اطاعت بھی جبر کی اطاعت تھی۔اب جو اطاعت ہے وہ پیار اور محبت کی اطاعت ہے۔یہ اطاعت جو ہے وہ Companionship کی اطاعت ہے۔اس میں اور اُس میں فرق ہے۔تو پہلے زمانے میں بظاہر لگتا تھا کہ بڑا ہی اچھا زمانہ ہے کیسی شریف عورتیں ہیں خاوند کے سامنے آنکھ نہیں اٹھاتیں، بات نہیں کرتیں لیکن جب خاوند باہر چلا جائے تو پھر کیا کرتی ہیں۔یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔یہ خاندان جن کا میں نے جائزہ لیا وہ پتا ہے کیا کیا کرتے تھے۔وہ یہ کرتے تھے کہ خاوند جب گیا دفتر میں یا اپنے کاموں پر تو بیوی نے اولا د کے کان بھرنے شروع کئے اور کہا کہ تمہارا باپ تو پاگل ہو گیا ہے تمہاری ضرورتیں کاٹ کاٹ کر چندے قادیان بھیج رہا ہے اور دیکھو تمہارا کیا حال ہے۔جائیدادیں اپنی جماعت کو دے رہا ہے اور چھوٹے چھوٹے بچے معصوم وہ ان باتوں کو سمجھ نہیں سکتے مگر ان کے دل پر اثر ضرور پڑتا ہے پھر کہ واقعی یہ تو باپ بڑا ظالم ہے اور ایسے بچوں نے مجھ سے خود ذکر کیا جو دور ہٹ گئے تھے میری ملاقات اور مجالس کے بعد جب بے تکلفانہ قریب آئے تو ایک دفعہ نہیں بارہا ایسا ہوا ہے، ایک ہی کہانی دہرائی گئی مگر بار ہا دہرائی گئی کہ ایسے بچے قریب آئے انہوں نے کہا کہ آپ نے بالکل سچی باتیں کی ہیں ہم سے یہی گزری ہے۔ایک نے کہا ہماری ماں تو ہمیں یہ مطالبے بتایا کرتی تھی۔کہتی تھی کہ اپنے ابا سے کہو مجھے موٹر سائیکل لے دیں ، مجھے فلاں چیز لے دیں اور جب ہم کہتے تھے تو باپ کہتا تھا میرے پاس تو نہیں پیسے۔تو ماں کہتی تھی دیکھا وہی بات نکلی اتنا چیک اس نے قادیان بھجوایا ہے۔وصیت کر بیٹھا