خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 818 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 818

خطبات طاہر جلد 15 818 خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 1996ء وہ سمجھیں گے کہ مولوی پیدا ہو گیا ہے۔اچھی مصیبت ہے اچھا بھلا پہلے ہمارے ساتھ مل کر یہ کام کیا کرتا تھا اور اب اس نے یہ کام چھوڑ دیئے ہیں اور ہمارے لئے بھی مشکل پیدا کر دی۔اس لئے ماحول اور دوستوں میں تو یہ بات اتنا نقصان نہیں دیتی کیونکہ دوست چھوڑ دیں تو جائیں پھر، لیکن گھر کو چھوڑ کر آپ کہاں جائیں گے، اپنی اولا د کو اپنی آنکھوں سے ضائع ہوتے کیسے دیکھیں گے۔اس لئے اس کا دوسرا قدم یہ ہے کہ جب اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کریں تو اپنی بیوی کو ساتھ لے کے چلیں ، اپنی اولاد کو ساتھ لے کے چلیں اور حکمت اور پیار سے اگر ان کو سمجھایا جائے تو وہ ضرور ساتھ دیتے ہیں۔اگر سمجھایا نہ جائے اور الگ آپ اپنی دنیا بنائے رکھیں اور سمجھیں کہ یہ ہمارے پیچھے ہیں، حکم سے مانیں گے تو جھوٹ ہے۔حکم سے کوئی بھی نیکی نہیں مانا کرتا۔یہ مودودی دماغ ہے جو یہ بات مانتا ہے کہ جبرا اور حکما نیکیاں پیدا کی جاسکتی ہیں۔یہ بہت بڑا پاگل پن ہے۔کبھی جبر اور حکم کے ذریعے نیکی پیدا نہیں ہوئی ہاں ایک مصنوعی عمل ضرور پیدا ہوا ہے۔نیکی تو دل کے اندر پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا نام ہے۔پریڈ کا نام تو نہیں ہے۔مودودی اسلام کے نتیجہ میں باجماعت نمازیں تو ہوسکتی ہیں اور داڑھیاں بڑھ سکتی ہیں ، شلوار میں مخنوں سے اوپر ہوسکتی ہیں اور ایک قسم کی بھیانک شکل ظاہر ہو سکتی ہے جو لو گوں کو کھینچنے کی بجائے متنفر کر رہی ہو اور اس پر یہ فخر کیا جائے کہ اسلام آ گیا اور دلوں میں خدا بیٹھ گیا بالکل جہالت اور بے وقوفی ہے۔دلوں میں خدا بیٹھتا ہے ایسی پاک نصیحت سے جو دل میں جاگزیں ہو جائے، جو دل نشین ہو کر زندگی کا حصہ بن جائے اس کے بغیر یہ تبدیلی ممکن نہیں ہے۔پس جبرا اور حکما آپ اپنے خاندان کو بھی نہیں بدل سکتے کجا یہ کہ مودودی تصور کے مطابق سارے معاشرے کو آپ تبدیل کر دیں۔کبھی دنیا میں جبر نے پاک تبدیلیاں پیدا نہیں کیں مصنوعی صورتیں بدلی ہیں۔لیکن روحوں پر جبر کا کوئی بھی دخل نہیں ہے۔پس اس پہلو سے آپ دنیا کے تجارب پر نظر ڈال کے دیکھیں ہر جگہ یہی دکھائی دے گا کہ جب دل کا حسن پیدا نہیں کرسکتا۔میں نے بارہا ان علاقوں کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے جہاں کسی زمانے میں احمدیت خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑے زور سے پھیلی تھی اور بہت بڑے بڑے خاندان تقریباً علاقہ کے سارے ہی معززین احمدی ہو چکے تھے اور اس کے بعد وہ پیچھے ہٹ گئے اور مجھے یہ بات اس لئے سمجھ نہیں آیا کرتی تھی کہ میں جانتا ہوں قرآن کے مطالعہ سے کہ وہ لوگ جو خود ایک دفعہ امام وقت کو قبول کر لیں وہ تباہ